یقینا قریش نے آپ سے وعدہ خلافی کی ہے اور آپ سے مضبوط معاہدہ کرکے توڑ ڈالا ہے۔
ان اشعار کو سن کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو تسلی دی اور فرمایا کہ مت گھبراؤ میں تمہاری امداد کے لئے تیار ہوں۔(1)(زرقانی ج ۲ ص ۲۹۰)
حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی امن پسندی
اس کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قریش کے پاس قاصد بھیجا اور تین شرطیں پیش فرمائیں کہ ان میں سے کوئی ایک شرط قریش منظور کرلیں:
(۱)بنی خزاعہ کے مقتولوں کا خون بہادیا جائے۔
(۲)قریش قبیلہ بنی بکر کی حمایت سے الگ ہوجائیں۔
(۳)اعلان کردیا جائے کہ حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔
جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قاصد نے ان شرطوں کو قریش کے سامنے رکھا تو قرطہ بن عبد عمرنے قریش کا نمائندہ بن کر جواب دیا کہ ''نہ ہم مقتولوں کے خون کا معاوضہ دیں گے نہ اپنے حلیف قبیلہ بنی بکر کی حمایت چھوڑیں گے۔ ہاں تیسری شرط
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃمع شرح الزرقانی،باب غزوۃ الفتح الاعظم، ج۳،ص۳۸۰،۳۸۲