Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
414 - 872
!(عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) آپ تنہائی میں کس سے گفتگو فرمارہے تھے؟ تو ارشاد فرمایا کہ اے میمونہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہاغضب ہوگیا۔ میرے حلیف بنی خزاعہ پر بنی بکر اور کفارقریش نے حملہ کردیا ہے اور اس مصیبت و بے کسی کے وقت میں بنی خزاعہ نے وہاں سے چلا چلاکر مجھے مدد کے لئے پکارا ہے اور مجھ سے مدد طلب کی ہے اور میں نے ان کی پکار سن کر ان کی ڈھارس بندھانے کے لئے ان کو جواب دیا ہے۔ حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ اس واقعہ کے تیسرے دن جب حضورِ اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نمازفجر کے لئے مسجد میں تشریف لے گئے اور نماز سے فارغ ہوئے تو دفعۃًبنی خزاعہ کے مظلومین نے رجز کے ان اشعار کو بلند آواز سے پڑھنا شروع کردیا اور حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور اصحاب کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان کی اس پردرد اور رقت انگیز فریاد کو بغور سنا۔ آپ بھی اس رجز کے چند اشعار کو ملاحظہ فرمائیے:
یَا رَبِّ اِنِّیْ نَاشِدٌ مُحَمَّدًا		حِلْفَ اَبِیْنَا وَاَبِیْہِ الْاَتْلَدًا
اے خدا!میں محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو وہ معاہدہ یاد دلاتا ہوں جو ہمارے اور ان کے باپ داداؤں کے درمیان قدیم زمانے سے ہوچکا ہے۔
فَانْصُرْ ھَدَاکَ اللہُ نَصْرًا اَبَّدَا		وَادْعُ عِبَادَ اﷲِ یَاتُوْا مَدَّدَا
تو خدا آپ کو سیدھی راہ پر چلائے۔ آپ ہماری بھرپور مدد کیجئے اور خدا کے بندوں کو بلائیے۔ وہ سب امداد کے لئے آئیں گے۔
فِیْھِمْ رَسُوْلُ اللہِ قَدْ تجَرَؒدَا		اِنْ سِیْمَ خَسْفًا وَجْھُہٗ تَرَبَّدَا
ان مدد کرنے والوں میں رسول اللہ (عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی غضب
Flag Counter