Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
413 - 872
تھا کہ وہ حرم میں بھی بنی خزاعہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کرتا رہا اور چلا چلاکر اپنی قوم کو للکارتا رہا کہ پھر یہ موقع کبھی ہاتھ نہیں آسکتا۔ چنانچہ ان درندہ صفت خونخوار انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیااور حرم کعبہ کی حدود میں نہایت ہی ظالمانہ طورپر بنی خزاعہ کا خون بہایااور کفارقریش نے بھی اس قتل و غارت اور کشت و خون میں خوب خوب حصہ لیا۔ (1)(زرقانی ج ۲ ص ۲۸۹)

ظاہر ہے کہ قریش نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو عملی طورپر توڑ ڈالا۔ کیونکہ بنی خزاعہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معاہدہ کرکے آپ کے حلیف بن چکے تھے، اس لئے بنی خزاعہ پر حملہ کرنا، یہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے برابر تھا۔ اس حملہ میں بنی خزاعہ کے تیئیس(۲۳) آدمی قتل ہوگئے۔

اس حادثہ کے بعد قبیلۂ بنی خزاعہ کے سردار عمروبن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا وفد لے کر فریاد کرنے اور امدادطلب کرنے کے لئے مدینہ بارگاہ رسالت میں پہنچے اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔
تاجداردوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے استعانت
حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ایک رات حضورِ اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاشانۂ نبوت میں وضو فرمارہے تھے کہ ایک دم بالکل ناگہاں آپ نے بلند آواز سے تین مرتبہ یہ فرمایا کہ لبیک۔ لبیک۔ لبیک۔(میں تمہارے لئے بار بار حاضر ہوں۔)پھر تین مرتبہ بلند آواز سے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ نصرت۔نصرت۔ نصرت (تمہیں مدد مل گئی) جب آپ وضو خانہ سے نکلے تو میں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ہفتم ،ج۲،ص۲۸۱،۲۸۲ملخصاً
Flag Counter