تھا کہ وہ حرم میں بھی بنی خزاعہ کو نہایت بے دردی کے ساتھ قتل کرتا رہا اور چلا چلاکر اپنی قوم کو للکارتا رہا کہ پھر یہ موقع کبھی ہاتھ نہیں آسکتا۔ چنانچہ ان درندہ صفت خونخوار انسانوں نے حرم الٰہی کے احترام کو بھی خاک میں ملا دیااور حرم کعبہ کی حدود میں نہایت ہی ظالمانہ طورپر بنی خزاعہ کا خون بہایااور کفارقریش نے بھی اس قتل و غارت اور کشت و خون میں خوب خوب حصہ لیا۔ (1)(زرقانی ج ۲ ص ۲۸۹)
ظاہر ہے کہ قریش نے اپنی اس حرکت سے حدیبیہ کے معاہدہ کو عملی طورپر توڑ ڈالا۔ کیونکہ بنی خزاعہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے معاہدہ کرکے آپ کے حلیف بن چکے تھے، اس لئے بنی خزاعہ پر حملہ کرنا، یہ رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کے برابر تھا۔ اس حملہ میں بنی خزاعہ کے تیئیس(۲۳) آدمی قتل ہوگئے۔
اس حادثہ کے بعد قبیلۂ بنی خزاعہ کے سردار عمروبن سالم خزاعی چالیس آدمیوں کا وفد لے کر فریاد کرنے اور امدادطلب کرنے کے لئے مدینہ بارگاہ رسالت میں پہنچے اور یہی فتح مکہ کی تمہید ہوئی۔