Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
403 - 872
رنج و صدمہ پہنچا۔اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے تین ہزار مسلمانوں کا لشکر تیار فرمایا اور اپنے دستِ مبارک سے سفید رنگ کا جھنڈا باندھ کر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دیا اور ان کو اس فوج کا سپہ سالار بنایا اور ارشاد فرمایا کہ اگر زید بن حارثہ شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر سپہ سالار ہوں گے اور جب وہ بھی شہادت سے سرفراز ہوجائیں تو اس جھنڈے کے علمبردار حضرت عبداللہ بن رواحہ ہوں گے(رضی اللہ تعالیٰ عنہم) ان کے بعد لشکراسلام جس کو منتخب کرے وہ سپہ سالار ہوگا۔(1)

اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ''ثنیۃ الوداع'' تک تشریف لے گئے اور لشکر کے سپہ سالار کو حکم فرمایا کہ تم ہمارے قاصد حضرت حارث بن عمیر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی شہادت گاہ میں جاؤ جہاں اس جاں نثار نے ادائے فرض میں اپنی جان دی ہے۔ پہلے وہاں کے کفار کو اسلام کی دعوت دو۔ اگر وہ لوگ اسلام قبول کرلیں تو پھر وہ تمہارے اسلامی بھائی ہیں ورنہ تم اللہ عزوجل کی مددطلب کرتے ہوئے ان سے جہاد کرو۔ جب لشکر چل پڑا تو مسلمانوں نے بلند آواز سے یہ دعا دی کہ خدا سلامت اور کامیاب واپس لائے۔

جب یہ فوج مدینہ سے کچھ دور آگے نکل گئی تو خبر ملی کہ خود قیصرروم مشرکین کی ایک لاکھ فوج لے کر بلقاء کی سرزمین میں خیمہ زن ہوگیا ہے۔ یہ خبر پاکر امیرلشکر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لشکر کو پڑاؤ کا حکم دے دیا اور ارادہ کیا کہ بارگاہ رسالت میں اس کی اطلاع دی جائے اور حکم کا انتظار کیا جائے۔ مگر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ہمارا مقصد فتح یامال غنیمت نہیں ہے بلکہ
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب غزوۃ موتۃ، ج۳، ص۳۴۰،۳۴۲
Flag Counter