| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ہمارا مطلوب تو شہادت ہے۔ کیونکہ ؎
شہادت ہے مقصودو مطلوبِ مومن نہ مالِ غنیمت ، نہ کشور کشائی
اور یہ مقصد بلند ہر وقت اور ہر حالت میں حاصل ہوسکتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ تقریر سن کر ہر مجاہد جوش جہاد میں بے خود ہوگیا۔ اور سب کی زبان پر یہی ترانہ تھا کہ ؎
بڑھتے چلو مجاہدو بڑھتے چلو مجاہدو
غرض یہ مجاہدین اسلام موتہ کی سرزمین میں داخل ہوگئے اور وہاں پہنچ کر دیکھا کہ واقعی ایک بہت بڑا لشکر ریشمی زرق برق وردیاں پہنے ہوئے بے پناہ تیاریوں کے ساتھ جنگ کے لئے کھڑا ہے۔ ایک لاکھ سے زائد لشکر کا بھلا تین ہزار سے مقابلہ ہی کیا؟ مگر مسلمان خداعزوجل کے بھروسا پر مقابلہ کے لئے ڈٹ گئے۔(1)معرکہ آرائی کا منظر
سب سے پہلے مسلمانوں کے امیر لشکر حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر کفار کے لشکر کو اسلام کی دعوت دی۔ جس کا جواب کفار نے تیروں کی مار اور تلواروں کے وار سے دیا۔ یہ منظر دیکھ کر مسلمان بھی جنگ کے لئے تیار ہوگئے اور لشکر اسلام کے سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھوڑے سے اتر کر پا پیادہ میدان جنگ میں کود پڑے اور مسلمانوں نے بھی نہایت جوش و خروش کے ساتھ لڑنا شروع کردیا لیکن اس گھمسان کی لڑائی میں کافروں نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیزوں اور برچھیوں سے چھید ڈالااور وہ جوانمردی کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ فوراً ہی جھپٹ کر حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پرچم
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب غزوۃ موتۃ، ج۳، ص۳۴۲۔۳۴۴