Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
389 - 872
قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّیْ مُرَحَّب،		شَاکِیْ السَّلَاحِ بَطَلٌ مُّجَرَّب،
خیبر خوب جانتا ہے کہ میں ''مرحب ''ہوں،اسلحہ پوش ہوں،بہت ہی بہادر اور تجربہ کار ہوں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے جواب میں رجز کا یہ شعر پڑھا ؎
اَنَا الَّذِیْ سَمَّتْنِیْ اُمِّیْ حَیْدَرَہٗ 		کَلَیْثِ غَابَاتٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہٗ
میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر(شیر) رکھا ہے۔ میں کچھار کے شیر کی طرح ہیبت ناک ہوں۔ مرحب نے بڑے طمطراق کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت شیرخدا پر اپنی تلوار سے وار کیا مگر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا پینترا بدلا کہ مرحب کا وار خالی گیا۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑھ کر اس کے سر پر اس زور کی تلوار ماری کہ ایک ہی ضرب سے خود کٹا، مغفرکٹا اور ذوالفقار حیدری سر کو کاٹتی ہوئی دانتوں تک اتر آئی اور تلوار کی مار کا تڑاکہ فوج تک پہنچا اور مرحب زمین پر گر کر ڈھیر ہوگیا۔ (1)                 (مسلم ج ۲ ص ۱۱۵ و ص ۲۷۸ )

مرحب کی لاش کو زمین پر تڑپتے ہوئے دیکھ کر اس کی تمام فوج حضرت شیرخدا رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن ذوالفقار حیدری بجلی کی طرح چمک چمک کر گرتی تھی جس سے صفوں کی صفیں اُلٹ گئیں۔ اور یہودیوں کے مایہ ناز بہادر مرحب، حارث، اسیر، عامر وغیرہ کٹ گئے۔ اسی گھمسان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گر پڑی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آگے بڑھ کر قلعہ قموص کا پھاٹک
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب الجھاد والسیر، باب غزوۃ ذی قرد وغیرہا، الحدیث:۱۸۰۷، 

ص۱۰۰۴، ۱۰۰۵ مختصراً
Flag Counter