Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
390 - 872
اکھاڑ دیا اور کواڑ کو ڈھال بناکر اس پر دشمنوں کی تلواریں روکتے رہے۔ یہ کواڑ اتنا بڑا اور وزنی تھا کہ بعد کو چالیس آدمی اس کو نہ اٹھا سکے۔(1) (زرقانی ج ۲ص۲۳۰ )

    جنگ جاری تھی کہ حضرت علی شیرخدارضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کمال شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے خیبر کو فتح کرلیا اور حضرت صادق الوعد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان صداقت کا نشان بن کر فضاؤں میں لہرانے لگا کہ''کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا وہ اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا محب بھی ہے اور اللہ و رسول عز وجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا محبوب بھی۔''

بے شک حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ و رسول عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے محب بھی ہیں اور محبوب بھی ہیں۔ اوربلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ سے خیبر کی فتح عطا فرمائی اور قیامت تک کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فاتح خیبر کے معزز لقب سے سرفراز فرما دیا اور یہ وہ فتح عظیم ہے جس نے پورے ''جزیرۃ العرب'' میں یہودیوں کی جنگی طاقت کا جنازہ نکال دیا۔ فتح خیبر سے قبل اسلام یہودیوں اور مشرکین کے گٹھ جوڑ سے نزع کی حالت میں تھا لیکن خیبر فتح ہوجانے کے بعد اسلام اس خوفناک نزع سے نکل گیا اور آگے اسلامی فتوحات کے دروازے کھل گئے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی مکہ بھی فتح ہوگیا۔ اس لئے یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فاتح خیبر کی ذات سے تمام اسلامی فتوحات کا سلسلہ وابستہ ہے۔ بہرحال خیبر کا قلعہ قموص بیس دن کے محاصرہ اور زبردست معرکہ آرائی کے بعد فتح ہوگیا۔ ان معرکوں میں ۹۳یہودی قتل ہوئے اور ۱۵ مسلمان جام شہادت سے سیراب ہوئے۔(2) (زرقانی ج ۲ ص ۲۲۸ )
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ خیبر، ج۳،ص۲۶۷مختصراً

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃ خیبر،ج۳،ص۲۵۶،۲۶۴۔۲۶۵ملتقطاً
Flag Counter