Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
388 - 872
لیکن صبح کو اچانک یہ صدا لوگوں کے کان میں آئی کہ علی کہاں ہیں؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ان کی آنکھوں میں آشوب ہے۔ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے قاصد بھیج کر ان کو بلایا اور ان کی دکھتی ہوئی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگا دیا اور دعا فرمائی تو فوراً ہی انہیں ایسی شفا حاصل ہوگئی کہ گویا انہیں کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ پھر تاجدار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اپنا علم نبوی جو حضرت اُمُ المؤمنین بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیاہ چادر سے تیار کیا گیا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں عطا فرمایا۔(1) (زرقانی ج۲ص۲۲۲ )

    اور ارشاد فرمایا کہ تم بڑے سکون کے ساتھ جاؤ اور ان یہودیوں کو اسلام کی دعوت دواور بتاؤ کہ مسلمان ہوجانے کے بعد تم پر فلاں فلاں اللہ کے حقوق واجب ہیں۔ خدا کی قسم!اگر ایک آدمی نے بھی تمہاری بدولت اسلام قبول کرلیا تو یہ دولت تمہارے لئے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔(2) (بخاری ج۲ ص ۶۰۵غزوه خیبر )
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور مرحب کی جنگ
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ''قلعہ قموص'' کے پاس پہنچ کر یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی، لیکن انہوں نے اس دعوت کا جواب اینٹ اور پتھر اور تیرو تلوار سے دیا۔ اور قلعہ کا رئیس اعظم ''مرحب'' خودبڑے طنطنہ کے ساتھ نکلا۔ سر پر یمنی زرد رنگ کا ڈھاٹا باندھے ہوئے اور اس کے اوپر پتھر کا خود پہنے ہوئے رجز کا یہ شعر پڑھتے ہوئے حملہ کے لئے آگے بڑھا کہ      ؎
1۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل علی...الخ،الحدیث۲۴۰۵،۲۴۰۶،ص۱۳۱۱

والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب غزوۃ خیبر،ج۳، ص۲۵۵

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی ، باب غزوۃ خیبر،الحدیث: ۴۲۱۰،ج۳، ص۸۵
Flag Counter