Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
387 - 872
لَاُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلاً یَفْتَحُ اللہُ عَلٰی یَدَیْہِ یُحِبُّ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیُحِبُّہٗ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوْکُوْنَ لَیْلَتَھُمْ اَیُّھُمْ یُعْطَاھَا۔(1)     (بخاری ج۲ص۶۰۵ غزوہ خیبر )
کل میں اس آدمی کو جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح دے گا وہ اللہ ورسول کا محب بھی ہے اور محبوب بھی۔ راوی نے کہا کہ لوگوں نے یہ رات بڑے اضطراب میں گزاری کہ دیکھئے کل کس کو جھنڈا دیا جاتا ہے؟

صبح ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ خدمت اقدس میں بڑے اشتیاق کے ساتھ یہ تمنا لے کر حاضر ہوئے کہ یہ اعزازوشرف ہمیں مل جائے۔ اس لئے کہ جس کو جھنڈا ملے گا اس کے لئے تین بشارتیں ہیں۔

    (۱) وہ اللہ و رسول کا محب ہے۔

    (۲) وہ اللہ ورسول کا محبوب ہے۔

    (۳) خیبر اس کے ہاتھ سے فتح ہوگا۔

حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ اس روز مجھے بڑی تمنا تھی کہ کاش! آج مجھے جھنڈا عنایت ہوتا۔ وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس موقع کے سوا مجھے کبھی بھی فوج کی سرداری اور افسری کی تمنا نہ تھی۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس نعمت عظمیٰ کے لئے ترس رہے تھے۔ (2)                 (مسلم ج۲ص ۲۷۸، ۲۷۹ باب من فضائل علی )
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ خیبر، الحدیث:۴۲۱۰، ج۳، ص۸۵ 

ودلائل النبوۃ للبیہقی،ماجاء فی بعث سرایا الی حصون ...الخ،ج۴،ص۲۱۱ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل علی...الخ،الحدیث:۲۴۰۵،

۲۴۰۶، ص۱۳۱۱
Flag Counter