حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہلے ہی سے یہ علم تھا کہ قبیلہ غطفان والے ضرور ہی خیبر والوں کی مدد کو آئیں گے۔ اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خیبر اور غطفان کے درمیان مقام ''رجیع'' میں اپنی فوجوں کا ہیڈکوارٹر بنایا اور خیموں، باربرداری کے سامانوں اور عورتوں کو بھی یہیں رکھا تھااور یہیں سے نکل نکل کر یہودیوں کے قلعوں پر حملہ کرتے تھے۔ (1)(مدارج النبوۃ ج ۲ص ۲۳۹ )
قلعہ ناعم کے بعد دوسرے قلعے بھی بہ آسانی اور بہت جلد فتح ہوگئے لیکن قلعہ ''قموص'' چونکہ بہت ہی مضبوط اور محفوظ قلعہ تھا اور یہاں یہودیوں کی فوجیں بھی بہت زیادہ تھیں اور یہودیوں کا سب سے بڑا بہادر ''مرحب'' خود اس قلعہ کی حفاظت کرتا تھا اس لئے اس قلعہ کو فتح کرنے میں بڑی دشواری ہوئی۔ کئی روز تک یہ مہم سر نہ ہوسکی۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس قلعہ پر پہلے دن حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کمان میں اسلامی فوجوں کو چڑھائی کے لئے بھیجا اور انہوں نے بہت ہی شجاعت اور جاں بازی کے ساتھ حملہ فرمایامگر یہودیوں نے قلعہ کی فصیل پر سے اس زور کی تیراندازی اور سنگ باری کی کہ مسلمان قلعہ کے پھاٹک تک نہ پہنچ سکے اور رات ہوگئی۔ دوسرے دن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے زبردست حملہ کیااور مسلمان بڑی گرم جوشی کے ساتھ بڑھ بڑھ کر دن بھر قلعہ پر حملہ کرتے رہے مگر قلعہ فتح نہ ہوسکا۔ اور کیونکر فتح ہوتا؟ فاتح خیبر ہونا تو علی حیدررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقدر میں لکھا تھا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ