Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
385 - 872
مسلمان ہوجاؤں تو مجھے خداوند تعالیٰ کی طرف سے کیا اجروثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم کو جنت اور اس کی نعمتیں ملیں گی۔ انہوں نے فوراً ہی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کرلیا۔ پھر عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمیہ بکریاں میرے پاس امانت ہیں۔ اب میں ان کو کیا کروں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم ان بکریوں کو قلعہ کی طرف ہانک دو اور ان کو کنکریوں سے مارو۔ یہ سب خودبخود اپنے مالک کے گھر پہنچ جائیں گی۔ چنانچہ یہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ انہوں نے بکریوں کو کنکریاں مار کر ہانک دیا اور وہ سب اپنے مالک کے گھر پہنچ گئیں۔

    اس کے بعد یہ خوش نصیب حبشی ہتھیار پہن کر مجاہدین اسلام کی صف میں کھڑا ہوگیااور انتہائی جوش و خروش کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگیا۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو فرمایا کہ عَمِلَ قَلِیْلاً وَ اُجِرَکَثِیْرًا۔یعنی اس شخص نے بہت ہی کم عمل کیااوربہت زیادہ اجر دیا گیا۔ پھر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی لاش کوخیمہ میں لانے کاحکم دیااوران کی لاش کے سرہانے کھڑے ہوکر آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ بشارت سنائی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کالے چہرہ کو حسین بنا دیا، اس کے بدن کو خوشبو دار بنادیا اور دو حوریں اس کو جنت میں ملیں۔ اس شخص نے ایمان اور جہاد کے سوا کوئی دوسرا عمل خیر نہیں کیا،نہ ایک وقت کی نمازپڑھی، نہ ایک روزہ رکھا، نہ حج و زکوٰۃ کا موقعہ ملا مگر ایمان اور جہاد کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے اس کو اتنا بلند مرتبہ عطا فرمایا۔(1) (مدارج النبوۃ ج۲ص ۲۴۰ )
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب ششم، ج۲، ص۲۳۹،۲۴۰

والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام،افتتاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للحصون،ص۴۳۸
Flag Counter