سب سے پہلے قلعہ ''ناعم'' پر معرکہ آرائی اور جم کر لڑائی ہوئی۔ حضرت محمود بن مسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی بہادری اور جاں نثاری کے ساتھ جنگ کی مگر سخت گرمی اورلو کے تھپیڑوں کی وجہ سے ان پر پیاس کا غلبہ ہوگیا۔ وہ قلعہ ناعم کی دیوار کے نیچے سو گئے۔ کنانہ بن ابی الحقیق یہودی نے ان کو دیکھ لیا اور چھت سے ایک بہت بڑا پتھر ان کے اوپر گرا دیا جس سے ان کا سر کچل گیا اور یہ شہید ہوگئے۔ اس قلعہ کو فتح کرنے میں پچاس مسلمان زخمی ہوگئے، لیکن قلعہ فتح ہوگیا۔(1)
اسودراعی کی شہادت
حضرت اسودراعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی قلعہ کی جنگ میں شہادت سے سرفراز ہوئے۔ ان کا واقعہ یہ ہے کہ یہ ایک حبشی تھے جو خیبر کے کسی یہودی کی بکریاں چرایا کرتے تھے۔ جب یہودی جنگ کی تیاریاں کرنے لگے تو انہوں نے پوچھا کہ آخر تم لوگ کس سے جنگ کے لئے تیاریاں کررہے ہو؟ یہودیوں نے کہا کہ آج ہم اس شخص سے جنگ کریں گے جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ سن کر ان کے دل میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ملاقات کا جذبہ پیدا ہوا۔ چنانچہ یہ بکریاں لئے ہوئے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوگئے اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپ کس چیز کی دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے سامنے اسلام پیش فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا کہ اگر میں
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب ششم، ج۲، ص۲۳۹ والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام،افتتاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم للحصون،ص۴۳۸