Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
383 - 872
قسم!لشکر کے ساتھ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)ہیں۔''اس وقت حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوگیا۔بلاشبہ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر پڑتے ہیں تو کفار کی صبح بری ہوجاتی ہے۔(1) (بخاری ج۲ص۶۰۳ )

    حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خیبر کی طرف متوجہ ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بہت ہی بلند آوازوں سے نعرهٔ تکبیر لگانے لگے۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے اوپر نرمی برتو۔ تم لوگ کسی بہرے اور غائب کو نہیں پکار رہے ہو بلکہ اس (اللہ) کو پکار رہے ہو جو سننے والا اور قریب ہے۔ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سواری کے پیچھے لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ کا وظیفہ پڑھ رہا تھا۔ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سنا تو مجھ کو پکارا اور فرمایا کہ کیا میں تم کو ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ''کیوں نہیں یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمآپ پر میرے ماں باپ قربان!''تو فرمایا کہ وہ کلمہ''لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ہے۔(2)(بخاری ج۲ص۶۰۵ )
یہودیوں کی تیاری
یہودیوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو ایک محفوظ قلعہ میں پہنچا دیا اور راشن کا ذخیرہ قلعہ ''ناعم'' میں جمع کردیا اور فوجوں کو ''نطاۃ'' اور ''قموص'' کے قلعوں میں اکٹھا کیا۔ ان میں سب سے زیادہ مضبوط اور محفوظ قلعہ ''قموص ''تھا اور ''مرحب یہودی'' جو عرب کے پہلوانوں میں ایک ہزارسوار کے برابر مانا جاتا تھا اسی قلعہ کا رئیس تھا۔ سلام بن مشکم یہودی گوبیمار تھا مگر وہ بھی قلعہ ''نطاۃ'' میں فوجیں لے کر ڈٹا ہوا تھا۔ یہودیوں
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی ، باب غزوۃ خیبر،الحدیث: ۴۱۹۷،ج۳، ص۸۱

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی ، باب غزوۃ خیبر،الحدیث: ۴۲۰۵،ج۳، ص۸۳
Flag Counter