۶ھ کے واقعات میں سے ابورافع یہودی کا قتل بھی ہے۔ ابورافع یہودی کا نام عبداللہ بن ابی الحقیق یا سلام بن الحقیق تھا۔یہ بہت ہی دولت مند تاجر تھا لیکن اسلام کا زبردست دشمن اور بارگاہ نبوت کی شان میں نہایت ہی بدترین گستاخ اور بے ادب تھا۔ یہ وہی شخص ہے جو حیی بن اخطب یہودی کے ساتھ مکہ گیا اور کفار قریش اور دوسرے قبائل کو جوش دلاکر غزوهٔ خندق میں مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے دس ہزار کی فوج لے کر آیا تھا اور ابوسفیان کو اُبھارکر اسی نے اس فوج کا سپہ سالار بنایا تھا۔ حیی بن اخطب تو جنگ خندق کے بعد غزوہ بنی قریظہ میں مارا گیا تھا مگر یہ بچ نکلا تھا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ایذارسانی اور اسلام کی بیخ کنی میں تن، من، دھن سے لگا ہوا تھا۔ انصار کے دونوں قبیلوں اوس اور خزرج میں ہمیشہ مقابلہ رہتا تھا اور یہ دونوں اکثر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے نیکیوں میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ چونکہ قبیلہ اوس کے لوگوں حضرت محمد بن مسلمہ وغیرہ نے ۳ھ میں بڑے خطرہ میں پڑ کر ایک دشمن رسول ''کعب بن اشرف یہودی'' کو قتل کیا تھا۔ اس لئے قبیلۂ خزرج کے لوگوں نے مشورہ کیا کہ اب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا سب سے بڑا دشمن ''ابورافع'' رہ گیا ہے۔ لہٰذا ہم لوگوں کو چاہے کہ اس کو قتل کرڈالیں تاکہ ہم لوگ بھی قبیلہ اوس کی