Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
377 - 872
طرح ایک دشمن رسول کو قتل کرنے کا اجروثواب حاصل کرلیں۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عتیک و عبداللہ بن انیس و ابوقتادہ و حارث بن ربعی و مسعود بن سنان و خزاعی بن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے لئے مستعد اور تیار ہوئے۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اجازت دے دی اور حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس جماعت کا امیر مقرر فرما دیااور ان لوگوں کو منع کردیا کہ بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے۔ (1) (زرقانی علی المواہب ج ۲ ص ۱۶۳ )

حضرت عبداللہ بن عتیک رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابورافع کے محل کے پاس پہنچے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ تم لوگ یہاں بیٹھ کر میری آمد کا انتظار کرتے رہو اور خود بہت ہی خفیہ تدبیروں سے رات میں اس کے محل کے اندر داخل ہوگئے اور اس کے بستر پر پہنچ کر اندھیرے میں اس کو قتل کردیا۔جب محل سے نکلنے لگے تو سیڑھی سے گر پڑے جس سے ان کے پاؤں کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ مگر انہوں نے فوراً ہی اپنی پگڑی سے اپنے ٹوٹے ہوئے پاؤں کو باندھ دیااور کسی طرح محل سے باہر آگئے۔ پھر اپنے ساتھیوں کی مدد سے مدینہ پہنچے۔ جب درباررسالت میں حاضرہوکر ابورافع کے قتل کا سارا ماجرا بیان کیا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''پاؤں پھیلاؤ'' انہوں نے پاؤں پھیلایا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کے پاؤں پر پھرا دیا۔ فوراً ہی ٹوٹی ہوئی ہڈی جڑ گئی اور ان کا پاؤں بالکل صحیح و سالم ہوگیا۔(2)

         (بخاری ج۱ص ۲۲۴ باب قتل النائم المشرک )
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی، باب قتل ابی رافع، ج۳، ص۱۴۱۔۱۴۳ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب قتل ابی رافع...الخ،الحدیث۴۰۳۹،ج۳،ص۳۱
Flag Counter