Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
375 - 872
 حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یہ گفتگو کرکے چلے آئے۔پھر دوسرے روز بھی یہی سوال و جواب ہوا۔ پھر تیسرے روز بھی یہی ہوا۔ اس کے بعد آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ ثمامہ کو چھوڑدو۔ چنانچہ لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا۔ ثمامہ مسجد سے نکل کر ایک کھجور کے باغ میں چلے گئے جو مسجدنبوی کے قریب ہی میں تھا۔ وہاں انہوں نے غسل کیا۔ پھر مسجدنبوی میں واپس آئے اور کلمۂ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے کہ خدا کی قسم!مجھے جس قدر آپ کے چہرہ سے نفرت تھی اتنی روئے زمین پر کسی کے چہرہ سے نہ تھی۔ مگر آج آپ کے چہرہ سے مجھے اس قدر محبت ہوگئی ہے کہ اتنی محبت کسی کے چہرہ سے نہیں ہے۔ کوئی دین میری نظر میں اتنا ناپسند نہ تھا جتنا آپ کا دین لیکن آج کوئی دین میری نظر میں اتنا محبوب نہیں ہے جتنا آپ کا دین۔ کوئی شہر میری نگاہ میں اتنا برا نہ تھا جتنا آپ کا شہر اور اب میرا یہ حال ہوگیا ہے کہ آپ کے شہر سے زیادہ مجھے کوئی شہر محبوب نہیں ہے۔ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں عمرہ ادا کرنے کے ارادہ سے مکہ جارہا تھا کہ آپ کے لشکر نے مجھے گرفتار کرلیا۔ اب آپ میرے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا مژدہ سنایا اور پھر حکم دیا کہ تم مکہ جاکر عمرہ ادا کرلو!

جب یہ مکہ پہنچے اور طواف کرنے لگے تو قریش کے کسی کافر نے ان کو دیکھ کر کہاکہ اے ثمامہ!تم صابی(بے دین)ہوگئے ہو۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت جرأت کے ساتھ جواب دیا کہ میں بے دین نہیں ہوا ہوں بلکہ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور اے اہل مکہ! سن لو!اب جب تک رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے تم لوگوں کو ہمارے وطن سے گیہوں کا ایک دانہ بھی نہیں مل سکے گا ۔مکہ والوں کے لئے ان