Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
370 - 872
کہا۔ اس سے میرا مقصد تمہارے دین کی پختگی کا امتحان لینا تھا تو میں نے دیکھ لیا کہ تم لوگ اپنے دین میں بہت پکے ہو۔ یہ سن کر تمام درباری قیصر کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور ابوسفیان وغیرہ دربار سے نکال دئیے گئے اور دربار برخواست ہوگیا۔ چلتے وقت ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب یقینا ابوکبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا معاملہ بہت بڑھ گیا۔ دیکھ لو! رومیوں کا بادشاہ ان سے ڈر رہا ہے۔(1) 

(بخاری باب کیف کان بدء الوحی ج۱ ص۴ تا۵ومسلم ج۲ ص ۹۷ تا ۹۹،مدارج ج ۲ص۲۲۱وغیرہ)

قیصر چونکہ توراۃ و انجیل کا ماہر اور علم نجوم سے واقف تھا اس لئے وہ نبی آخرالزماں کے ظہورسے باخبر تھا اور ابوسفیان کی زبان سے حالات سن کر اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہوگیا تھا۔ مگر سلطنت کی حرص و ہوس کی آندھیوں نے اس چراغ ہدایت کو بجھا دیا اور وہ اسلام کی دولت سے محروم رہ گیا۔
خسروپرویز کی بددماغی
تقریباً اسی مضمون کے خطوط دوسرے بادشاہوں کے پاس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روانہ فرمائے۔شہنشاہ ایران خسروپرویز کے دربار میں جب نامہ مبارک پہنچا تو صرف اتنی سی بات پر اس کے غرور اور گھمنڈ کا پارہ اتنا چڑھ گیا کہ اس نے کہا کہ اس خط میں محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے میرے نام سے پہلے اپنا نام کیوں لکھا؟ یہ کہہ کر اس نے فرمان رسالت کو پھاڑ ڈالا اور پرزے پرزے کرکے خط کو زمین پر پھینک دیا۔ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی تو آپ نے فرمایا کہ
مَزَّقَ کِتَابِیْ مَزَّقَ اللہُ مُلْکَہٗ
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب بدء الوحی،باب ۶،الحدیث:۷،ج۱،ص۱۱۔۱۲ملخصاً
Flag Counter