کہا۔ اس سے میرا مقصد تمہارے دین کی پختگی کا امتحان لینا تھا تو میں نے دیکھ لیا کہ تم لوگ اپنے دین میں بہت پکے ہو۔ یہ سن کر تمام درباری قیصر کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور ابوسفیان وغیرہ دربار سے نکال دئیے گئے اور دربار برخواست ہوگیا۔ چلتے وقت ابوسفیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اب یقینا ابوکبشہ کے بیٹے (محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا معاملہ بہت بڑھ گیا۔ دیکھ لو! رومیوں کا بادشاہ ان سے ڈر رہا ہے۔(1)
(بخاری باب کیف کان بدء الوحی ج۱ ص۴ تا۵ومسلم ج۲ ص ۹۷ تا ۹۹،مدارج ج ۲ص۲۲۱وغیرہ)
قیصر چونکہ توراۃ و انجیل کا ماہر اور علم نجوم سے واقف تھا اس لئے وہ نبی آخرالزماں کے ظہورسے باخبر تھا اور ابوسفیان کی زبان سے حالات سن کر اس کے دل میں ہدایت کا چراغ روشن ہوگیا تھا۔ مگر سلطنت کی حرص و ہوس کی آندھیوں نے اس چراغ ہدایت کو بجھا دیا اور وہ اسلام کی دولت سے محروم رہ گیا۔