شروع کرتاہوں میں خداکے نام سے جوبڑامہربان اورنہایت رحم فرمانے والاہے۔ اللہ کے بندے اور رسول محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی طرف سے یہ خط ''ہرقل'' کے نام ہے جو روم کا بادشاہ ہے۔ اس شخص پر سلامتی ہو جو ہدایت کا پیرو ہے۔ اس کے بعد میں تجھ کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں تو مسلمان ہوجا تو سلامت رہے گا۔ خدا تجھ کو دوگنا ثواب دے گا۔ اور اگر تو نے روگردانی کی توتیری تمام رعایاکا گناہ تجھ پر ہوگا۔ اے اہل کتاب!ایک ایسی بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم میں سے بعض لوگ دوسرے بعض لوگوں کو خدا نہ بنائیں اور اگر تم نہیں مانتے تو گواہ ہوجاؤ کہ ہم مسلمان ہیں!
قیصر نے ابوسفیان سے جو گفتگو کی اس سے اس کے درباری پہلے ہی انتہائی برہم اور بیزار ہوچکے تھے۔ اب یہ خط سنا۔ پھر جب قیصر نے ان لوگوں سے یہ کہا کہ اے جماعت روم!اگر تم اپنی فلاح اور اپنی بادشاہی کی بقا چاہتے ہوتو اس نبی کی بیعت کرلو۔ تو درباریوں میں اس قدر ناراضگی اور بیزاری پھیل گئی کہ وہ لوگ جنگلی گدھوں کی طرح بدک بدک کردربارسے دروازوں کی طرف بھاگنے لگے۔مگرچونکہ تمام دروازے بند تھے اس لئے وہ لوگ باہر نہ نکل سکے۔جب قیصر نے اپنے درباریوں کی نفرت کا یہ منظر دیکھا تو وہ ان لوگوں کے ایمان لانے سے مایوس ہوگیا اور اس نے کہا کہ ان درباریوں کو بلاؤ۔ جب سب آگئے تو قیصر نے کہا کہ ابھی ابھی میں نے تمہارے سامنے جو کچھ