| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اس نے میرے خط کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا خدا اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کردے۔ چنانچہ اس کے بعد ہی خسروپرویز کو اس کے بیٹے ''شیرویہ'' نے رات میں سوتے ہوئے اس کا شکم پھاڑ کر اس کو قتل کردیا۔ اور اس کی بادشاہی ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔ یہاں تک کہ حضرت امیرالمومنین عمرفاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت میں یہ حکومت صفحہ ہستی سے مٹ گئی۔ (1)(مدارج النبوۃ ج۲ص۲۲۵وغیرہ و بخاری ج۱ص۴۱۱ )
نجاشی کا کردار
نجاشی بادشاہ حبشہ کے پاس جب فرمان رسالت پہنچا تو اس نے کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس معاملہ میں مؤرخین کا اختلاف ہے کہ اس نجاشی نے اسلام قبول کیا یا نہیں؟ مگر مواہب لدنیہ میں لکھا ہوا ہے کہ یہ نجاشی جس کے پاس اعلان نبوت کے پانچویں سال مسلمان مکہ سے ہجرت کرکے گئے تھے اور ۶ھ میں جس کے پاس حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خط بھیجا اور ۹ھ میں جس کا انتقال ہوا اور مدینہ میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے جس کی غائبانہ نماز جنازہ پڑھائی اس کا نام ''اصمحہ'' تھا اور یہ بلاشبہ مسلمان ہوگیا تھا۔ لیکن اس کے بعد جو نجاشی تخت پر بیٹھا اس کے پاس بھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسلام کا دعوت نامہ بھیجا تھا ۔مگر اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اس نجاشی کانام کیاتھا؟اور اس نے اسلام قبول کیا یا نہیں؟ مشہورہے کہ یہ دونوں مقدس خطوط اب تک سلاطین حبشہ کے پاس موجود ہیں اور وہ لوگ اس کا بے حد ادب و احترام کرتے ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔(2) (مدارج النبوۃ ج ۲ص ۲۲۰ )
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ،ج۲،ص۲۲۴ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ،ج۲،ص۲۲۰ملتقطاً