جھوٹ باندھ سکتا ہے؟ تم کہتے ہو کہ کمزور لوگوں نے ان کے دین کو قبول کیا ہے۔ تو سن لو ہمیشہ ابتداء میں پیغمبروں کے متبعین مفلس اور کمزور ہی لوگ ہوتے رہے ہیں۔ تم نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ان کی پیروی کرنے والے بڑھتے ہی جارہے ہیں تو ایمان کا معاملہ ہمیشہ ایسا ہی رہا ہے کہ اس کے ماننے والوں کی تعداد ہمیشہ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ تم کو یہ تسلیم ہے کہ کوئی ان کے دین سے پھر کر مرتد نہیں ہورہا ہے۔ تو تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ ایمان کی شان ایسی ہی ہوا کرتی ہے کہ جب اس کی لذت کسی کے دل میں گھر کرلیتی ہے تو پھر وہ کبھی نکل نہیں سکتی۔ تمہیں اس کا اعتراف ہے کہ انہوں نے کبھی کوئی غداری اور بدعہدی نہیں کی ہے۔ تو رسولوں کا یہی حال ہوتا ہے کہ وہ کبھی کوئی دغا فریب کا کام کرتے ہی نہیں۔ تم نے ہمیں بتایا کہ وہ خدائے واحد کی عبادت، شرک سے پرہیز، بت پرستی سے ممانعت، پاک دامنی، صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں۔ تو سن لو کہ تم نے جو کچھ کہا ہے اگر یہ صحیح ہے تو وہ عنقریب اس جگہ کے مالک ہوجائیں گے جہاں اس وقت میرے قدم ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک رسول کا ظہور ہونے والا ہے مگر میرا یہ گمان نہیں تھا کہ وہ رسول تم عربوں میں سے ہوگا۔ اگر میں یہ جان لیتا کہ میں ان کی بارگاہ میں پہنچ سکوں گا تو میں تکلیف اٹھاکر وہاں تک پہنچتااور اگر میں ان کے پاس ہوتا تو میں ان کا پاؤں دھوتا۔ قیصر نے اپنی اس تقریر کے بعد حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا خط پڑھ کر سنایا جائے۔ نامہ مبارک کی عبارت یہ تھی۔