قیصر: کیا وہ کبھی عہدشکنی اور وعدہ خلافی بھی کرتے ہیں؟
ابوسفیان: ابھی تک تونہیں کی ہے لیکن اب ہمارے اوران کے درمیان (حدیبیہ)
میں جو ایک نیا معاہدہ ہوا ہے معلوم نہیں اس میں وہ کیا کریں گے؟
قیصر: کیا کبھی تم لوگوں نے ان سے جنگ بھی کی؟
ابوسفیان: ''ہاں''۔
قیصر: نتیجہ جنگ کیا رہا؟
ابوسفیان: کبھی ہم جیتے، کبھی وہ۔
قیصر: وہ تمہیں کن باتوں کا حکم دیتے ہیں؟
ابوسفیان: وہ کہتے ہیں کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو کسی اور کو خدا کا شریک
نہ ٹھہراؤ، بتوں کو چھوڑو، نماز پڑھو، سچ بولو، پاک دامنی اختیارکرو،
رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرو۔(1)
اس سوال و جواب کے بعد قیصر نے کہا کہ تم نے ان کو خاندانی شریف بتایا اور تمام پیغمبروں کا یہی حال ہے کہ ہمیشہ پیغمبر اچھے خاندانوں ہی میں پیدا ہوتے ہیں۔ تم نے کہا کہ ان کے خاندان میں کبھی کسی اور نے نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ اگر ایسا ہوتا تو میں کہہ دیتا کہ یہ شخص اوروں کی نقل اتار رہا ہے۔ تم نے اقرار کیا ہے کہ ان کے خاندان میں کبھی کوئی بادشاہ نہیں ہوا ہے۔ اگر یہ بات ہوتی تو میں سمجھ لیتا کہ یہ شخص اپنے آباء واجداد کی بادشاہی کا طلبگار ہے۔ تم مانتے ہو کہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے وہ کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولے تو جو شخص انسانوں سے جھوٹ نہیں بولتا بھلا وہ خدا پر کیوں کر