Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
365 - 872
(۱) حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر قل قیصر روم کے دربار میں

(۲)حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خسروپرویز شاہ ایران     //

(۳)حضرت حاطب رضی اللہ تعالیٰ عنہ مقوقس عزیز مصر     //

(۴)حضرت عمروبن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نجاشی بادشاہ حبشہ     //

(۵)حضرت سلیط بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوذہ، بادشاہ یمامہ     // 

(۶)حضرت شجاع بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ    حارث غسانی والی غسان     //(1)

نامہ مبارک اور قیصر

حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا مقدس خط لے کر ''بصریٰ'' تشریف لے گئے اور وہاں قیصرروم کے گورنر شام حارث غسانی کو دیا۔ اس نے اس نامہ مبارک کو ''بیت المقدس'' بھیج دیا ۔کیونکہ قیصرروم ''ہرقل'' ان دنوں بیت المقدس کے دورہ پر آیا ہوا تھا۔ قیصر کو جب یہ مبارک خط ملا تو اس نے حکم دیا کہ قریش کا کوئی آدمی ملے تو اس کو ہمارے دربار میں حاضر کرو۔ قیصر کے حکام نے تلاش کیا تو اتفاق سے ابوسفیان اور عرب کے کچھ دوسرے تاجر مل گئے۔ یہ سب لوگ قیصر کے دربار میں لائے گئے۔ قیصر نے بڑے طمطراق کے ساتھ دربار منعقد کیا اور تاج شاہی پہن کر تخت پر بیٹھا۔ اور تخت کے گرد اراکین سلطنت، بطارقہ اور احبار ورہبان وغیرہ صف باندھ کر کھڑے ہوگئے۔ اسی حالت میں عرب کے تاجروں کا گروہ دربار میں حاضر کیا گیا اور شاہی محل کے تمام دروازے بند کردئیے گئے۔ پھر قیصر نے ترجمان کو بلایا اور اس کے ذریعہ گفتگو شروع کی۔ سب سے پہلے قیصر نے یہ سوال کیا کہ عرب
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ ، ذکر مکاتبۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الملوک،ج۲،ص۹۵
Flag Counter