| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
ان کے پاس ایسے وقت پہنچاجب وہ نزع کی حالت میں تھے۔ مقدس خط کو انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر سر اور آنکھوں پر رکھااور ان کی روح پرواز کرگئی۔ حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل جل کر ان کی تجہیز وتکفین کا انتظام کیا اور دفن کے بعد ان کی قبرشریف کے پاس یادگار کے لئے ایک مسجد بنا دی۔ پھر فرمان رسول کے بموجب یہ سب لوگ وہاں سے آکر مدینہ میں آباد ہوگئے۔(1)(مدارج النبوۃ ج ۲ص۲۱۸ )
سلاطین کے نام دعوت اسلام
۶ھ میں صلح حدیبیہ کے بعد جب جنگ و جدال کے خطرات ٹل گئے اور ہر طرف امن و سکون کی فضا پیدا ہوگئی تو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کا دائرہ صرف خطۂ عرب ہی تک محدود نہیں تھابلکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم تمام عالم کے لئے نبی بناکر بھیجے گئے اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ اسلام کا پیغام تمام دنیا میں پہنچا دیا جائے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روم کے بادشاہ ''قیصر'' فارس کے بادشاہ ''کسریٰ'' حبشہ کے بادشاہ ''نجاشی'' مصر کے بادشاہ ''عزیز'' اور دوسرے سلاطین عرب و عجم کے نام دعوت اسلام کے خطوط روانہ فرمائے۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں سے کون کون حضرات ان خطوط کو لے کرکن کن بادشاہوں کے دربار میں گئے؟ ان کی فہرست کافی طویل ہے مگر ایک ہی دن چھ خطوط لکھوا کر اور اپنی مہرلگاکر جن چھ قاصدوں کوجہاں جہاں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے روانہ فرمایا وہ یہ ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ،ج۲، ص۲۱۸