Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
363 - 872
حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس جملہ سے سمجھ گئے کہ میں پھر کافروں کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا، اس لئے وہ وہاں سے چپکے سے کھسک گئے اور ساحل سمندر کے قریب مقام ''عیص'' میں جاکر ٹھہرے ۔ ادھر مکہ سے حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی زنجیر کاٹ کر بھاگے اور وہ بھی وہیں پہنچ گئے۔ پھر مکہ کے دوسرے مظلوم مسلمانوں نے بھی موقع پاکر کفار کی قید سے نکل نکل کر یہاں پناہ لینی شروع کردی۔ یہاں تک کہ اس جنگل میں ستر آدمیوں کی جماعت جمع ہوگئی۔ کفارقریش کے تجارتی قافلوں کا یہی راستہ تھا۔ جو قافلہ بھی آمدورفت میں یہاں سے گزرتا،یہ لوگ اس کو لوٹ لیتے۔ یہاں تک کہ کفارقریش کے ناک میں دم کردیا۔ بالآخر کفارقریش نے خدا اور رشتہ داری کا واسطہ دے کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ ہم صلح نامہ میں اپنی شرط سے باز آئے۔ آپ لوگوں کو ساحل سمندر سے مدینہ بلا لیجئے اور اب ہماری طرف سے اجازت ہے کہ جو مسلمان بھی مکہ سے بھاگ کر مدینہ جائے آپ اس کو مدینہ میں ٹھہرا لیجئے۔ ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہ ہوگا۔(1)(بخاری باب الشروط فی الجہاد ج۱ ص۳۸۰ )

    یہ بھی روایت ہے کہ قریش نے خود ابوسفیان کو مدینہ بھیجا کہ ہم صلح نامہ حدیبیہ میں اپنی شرط سے دست بردار ہو گئے۔ لہٰذا آپ حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مدینہ میں بلا لیں تاکہ ہمارے تجارتی قافلے ان لوگوں کے قتل و غارت سے محفوظ ہوجائیں۔ چنانچہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابوبصیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس خط بھیجا کہ تم اپنے ساتھیوں سمیت مقامِ ''عیص'' سے مدینہ چلے آؤ۔ مگر افسوس!کہ فرمانِ رسالت
1۔۔۔۔۔۔ صحیح البخاری، کتاب الشروط، باب الشروط فی الجھاد...الخ، الحدیث:۲۷۳۱،

۲۷۳۲،ج۲، ص۲۲۷مفصلاً والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، باب ماجری علیہ امر قوم 

من...الخ،ص۴۳۴،۴۳۵
Flag Counter