Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
357 - 872
اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب دیکھا کہ میں پھر مکہ لوٹا دیا جاؤں گا تو انہوں نے مسلمانوں سے فریاد کی اور کہا کہ اے جماعت مسلمین!دیکھو میں مشرکین کی طرف لوٹایا جارہاہوں حالانکہ میں مسلمان ہوں اور تم مسلمانوں کے پاس آگیا ہوں کفار کی مار سے ان کے بدن پر چوٹوں کے جو نشانات تھے انہوں نے ان نشانات کو دکھا دکھا کر مسلمانوں کو جوش دلایا۔(1) 

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقریر سن کر ایمانی جذبہ سوار ہوگیا اور وہ دندناتے ہوئے بارگاہ رسالت میں پہنچے اور عرض کیا کہ کیا آپ سچ مچ اللہ کے رسول نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا کہ کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ کیوں نہیں؟ پھر انہوں نے کہا کہ تو پھر ہمارے دین میں ہم کو یہ ذلت کیوں دی جارہی ہے؟ آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے عمر! میں اللہ کا رسول ہوں۔میں اس کی نافرمانی نہیں کرتاہوں۔ وہ میرا مددگار ہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ ہم سے یہ وعدہ نہ فرماتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں آکر طواف کریں گے؟ ارشاد فرمایا کہ کیا میں نے تم کو یہ خبر دی تھی کہ ہم اسی سال بیت اللہ میں داخل ہوں گے؟ انہوں نے کہا کہ ''نہیں'' آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں پھر کہتا ہوں کہ تم یقینا کعبہ میں پہنچو گے اور اس کا طواف کرو گے۔

درباررسالت سے اٹھ کر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور وہی گفتگو کی جو بارگاہ رسالت میں عرض کرچکے تھے۔
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب امر الحدیبیۃ، ج۳، ص۲۱۱۔۲۱۳

وکتاب المغا زی للواقدی، غزوۃ الحدیبیۃ،ج۲، ص۲۰۸
Flag Counter