| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
لیکن اگر کوئی مسلمان مدینہ سے مکہ میں چلا جائے تو وہ واپس نہیں کیا جائے گا۔ (۶)قبائل عرب کو اختیار ہوگا کہ وہ فریقین میں سے جس کے ساتھ چاہیں دوستی کا معاہدہ کرلیں۔ یہ شرطیں ظاہر ہے کہ مسلمانوں کے سخت خلاف تھیں اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو اس پر بڑی زبردست ناگواری ہورہی تھی مگر وہ فرمان رسالت کے خلاف دم مارنے سے مجبور تھے۔(1) (ابن ہشام ج۳ ص ۳۱۷ وغیرہ )
حضرت ابوجندل کا معاملہ
یہ عجیب اتفاق ہے کہ معاہدہ لکھا جا چکا تھا لیکن ابھی اس پر فریقین کے دستخط نہیں ہوئے تھے کہ اچانک اسی سہیل بن عمرو کے صاحبزادے حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیڑیاں گھسیٹتے ہوئے گرتے پڑتے حدیبیہ میں مسلمانوں کے درمیان آن پہنچے۔ سہیل بن عمرو اپنے بیٹے کو دیکھ کر کہنے لگا کہ اے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)اس معاہدہ کی دستاویز پر دستخط کرنے کے لئے میری پہلی شرط یہ ہے کہ آپ ابوجندل کو میری طرف واپس لوٹایئے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابھی تو اس معاہدہ پر فریقین کے دستخط ہی نہیں ہوئے ہیں۔ ہمارے اور تمہارے دستخط ہوجانے کے بعد یہ معاہدہ نافذ ہوگا۔ یہ سن کر سہیل بن عمرو کہنے لگا کہ پھر جایئے۔ میں آپ سے کوئی صلح نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اے سہیل!تم اپنی طرف سے اجازت دے دو کہ میں ابوجندل کو اپنے پاس رکھ لوں۔ اس نے کہا کہ میں ہرگز کبھی
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ،ذکرعمرۃ الحدیبیۃ،ج۲،ص۸۹،۹۰والسیرۃ النبویۃ لابن ھشام، امرالحدیبیۃ فی اٰخر سنۃ...الخ،ص۴۳۱والسیرۃ الحلبیۃ،باب ذکر مغازیہ،غزوۃ الحدیبیۃ، ج۳،ص۲۹وشرح الزرقانی علی المواھب،باب امرالحدیبیۃ،ج۳،ص۱۹۸۔ ۲۰۰، ۲۰۸۔۲۱۰