Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
358 - 872
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اے عمر!وہ خدا کے رسول ہیں۔ وہ جو کچھ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے کرتے ہیں وہ کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کرتے اور خدا ان کا مددگار ہے اور خدا کی قسم!یقینا وہ حق پر ہیں لہٰذا تم ان کی رکاب تھامے رہو۔(1)          (ابن ہشام ج ۳ص۳۱۷ )

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تمام عمر اِن باتوں کا صدمہ اور سخت رنج و افسوس رہا جو انہوں نے جذبہ بے اختیاری میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کہہ دی تھیں۔ زندگی بھر وہ اس سے توبہ و استغفار کرتے رہے اور اس کے کفارہ کے لئے انہوں نے نمازیں پڑھیں، روزے رکھے،خیرات کی، غلام آزاد کئے۔بخاری شریف میں اگرچہ ان اعمال کا مفصل تذکرہ نہیں ہے، اجمالاً ہی ذکر ہے لیکن دوسری کتابوں میں نہایت تفصیل کے ساتھ یہ تمام باتیں بیان کی گئی ہیں۔(2)

بہرحال یہ بڑے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ ایک طرف حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ گڑگڑا کر مسلمانوں سے فریاد کررہے ہیں اور ہر مسلمان اس قدر جوش میں بھرا ہوا ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ادب مانع نہ ہوتا تو مسلمانوں کی تلواریں نیام سے باہر نکل پڑتیں۔ دوسری طرف معاہدہ پر دستخط ہوچکے ہیں اور اپنے عہد کو پورا کرنے کی ذمہ داری سر پر آن پڑی ہے۔ حضورِ انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے موقع کی نزاکت کا خیال فرماتے ہوئے حضرت ابوجندل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ تم صبر کرو۔ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اور دوسرے مظلوموں کے لئے ضرور ہی کوئی راستہ
1۔۔۔۔۔۔کتاب المغازی للواقدی، غزوۃ الحدیبیۃ،ج۲،ص۶۰۸ 

وشرح الزرقانی علی المواھب، باب امر الحدیبیۃ، ج۳، ص۲۱۷۔۲۱۹

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب امر الحدیبیۃ، ج۳، ص۲۱۳
Flag Counter