Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
355 - 872
میں محمد رسول اللہ بھی ہوں اور محمد بن عبداللہ بھی ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ تم لوگ میری رسالت کو جھٹلاتے ہو۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ محمد رسول اللہ کو مٹا دو اور اس جگہ محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے زیادہ کون مسلمان آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمانبردار ہوسکتا ہے؟ لیکن محبت کے عالم میں کبھی کبھی ایسا مقام بھی آجاتا ہے کہ سچے محب کو بھی اپنے محبوب کی فرمانبرداری سے محبت ہی کے جذبہ میں انکار کرنا پڑتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں آپ کے نام کو تو کبھی ہرگز ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا مجھے دکھاؤ میرا نام کہاں ہے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جگہ پر انگلی رکھ دی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وہاں سے ''رسول اللہ'' کا لفظ مٹا دیا۔ بہرحال صلح کی تحریر مکمل ہوگئی۔ اس دستاویز میں یہ طے کردیا گیا کہ فریقین کے درمیان دس سال تک لڑائی بالکل موقوف رہے گی۔ صلح نامہ کی باقی دفعات اور شرطیں یہ تھیں کہ

(۱)مسلمان اس سال بغیر عمرہ ادا کیے واپس چلے جائیں۔

(۲)آئندہ سال عمرہ کیلئے آئیں اور صرف تین دن مکہ میں ٹھہر کر واپس چلے جائیں۔

(۳)تلوار کے سوا کوئی دوسرا ہتھیار لے کر نہ آئیں۔ تلوار بھی نیام کے اندر رکھ کر تھیلے وغیرہ میں بند ہو۔

(۴)مکہ میں جو مسلمان پہلے سے مقیم ہیں ان میں سے کسی کو اپنے ساتھ نہ لے جائیں اور مسلمانوں میں سے اگر کوئی مکہ میں رہنا چاہے تو اس کو نہ روکیں۔

(۵)کافروں یا مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر مدینہ چلا جائے تو واپس کردیا جائے