Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
354 - 872
کا نام مکرز بن حفص تھا اس نے کہا کہ مجھ کو تم لوگ وہاں جانے دو۔ قریش نے کہا: ''تم بھی جاؤ'' چنانچہ یہ چلا۔ جب یہ نزدیک پہنچا تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ مکرز ہے۔ یہ بہت ہی لچا آدمی ہے۔ اس نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے گفتگو شروع کی۔ ابھی اس کی بات پوری بھی نہ ہوئی تھی کہ ناگہاں ''سہیل بن عمرو'' آگیا اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نیک فالی کے طور پریہ فرمایا کہ سہیل آگیا ، لو! اب تمہارا معاملہ سہل ہو گیا۔(1) چنانچہ سہیل نے آتے ہی کہا کہ آیئے ہم اور آپ اپنے اور آپ کے درمیان معاہدہ کی ایک دستاویز لکھ لیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو منظور فرما لیا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دستاویز لکھنے کے لئے طلب فرمایا۔ سہیل بن عمرو اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے درمیان دیر تک صلح کے شرائط پر گفتگو ہوتی رہی۔ بالآخر چند شرطوں پردونوں کااتفاق ہوگیا۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ لکھو بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم سہیل نے کہا کہ ہم ''رحمن'' کو نہیں جانتے کہ یہ کیا ہے؟ آپ ''باسمک اللھم'' لکھوایئے جو ہمارا اور آپ کا پرانا دستور رہاہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم بسم اﷲ الرحمن الرحیم کے سوا کوئی دوسرا لفظ نہیں لکھیں گے۔ مگر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے سہیل کی بات مان لی اور فرمایا کہ اچھا۔ اے علی! باسمک اللھم ہی لکھ دو۔ پھر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ عبارت لکھوائی۔ ھذا ما قاضٰی علیہ محمد رسول اﷲ یعنی یہ وہ شرائط ہیں جن پر قریش کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صلح کا فیصلہ کیا۔ سہیل پھر بھڑک گیا اور کہنے لگا کہ خدا کی قسم!اگر ہم جان لیتے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں تو نہ ہم آپ کو بیت اللہ سے روکتے نہ آپ کے ساتھ جنگ کرتے لیکن آپ ''محمد بن عبداللہ'' لکھیئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا کی قسم!
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ ، ذکرعمرۃ الحدیبیۃ ،ج۲، ص۸۸،۸۹
Flag Counter