Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
353 - 872
ان کے ساتھیوں کے دلوں میں ان کی اتنی زبردست عظمت ہے کہ کوئی شخص ان کی طرف نظر بھر دیکھ نہیں سکتا۔ اے میری قوم!خدا کی قسم! میں نے بہت سے بادشاہوں کا دربار دیکھاہے۔میں قیصروکسریٰ اور نجاشی کے درباروں میں بھی باریاب ہوچکا ہوں۔ مگر خدا کی قسم!میں نے کسی بادشاہ کے درباریوں کو اپنے بادشاہ کی اتنی تعظیم کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے جتنی تعظیم محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے ساتھی محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کی کرتے ہیں۔''(1)

عروہ بن مسعود کی یہ گفتگو سن کر قبیلہ بنی کنانہ کے ایک شخص نے جس کانام ''حلیس'' تھا، کہا کہ تم لوگ مجھ کو اجازت دو کہ میں ان کے پاس جاؤں۔ قریش نے کہا کہ ''ضرور جایئے'' چنانچہ یہ شخص جب بارگاہ رسالت کے قریب پہنچا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ یہ فلاں شخص ہے اور یہ اس قوم سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ لہٰذا تم لوگ قربانی کے جانوروں کو اس کے سامنے کھڑا کردواور سب لوگ ''لبیک'' پڑھنا شروع کردو۔ اس شخص نے جب قربانی کے جانوروں کو دیکھا اور احرام کی حالت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو ''لبیک'' پڑھتے ہوئے سنا تو کہا کہ سبحان اللہ!بھلا ان لوگوں کو کس طرح مناسب ہے کہ بیت اللہ سے روک دیا جائے؟ وہ فوراً ہی پلٹ کر کفار قریش کے پاس پہنچا اور کہا کہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آرہا ہوں کہ قربانی کے جانور ان لوگوں کے ساتھ ہیں اور سب احرام کی حالت میں ہیں۔لہٰذا میں کبھی بھی یہ رائے نہیں دے سکتا کہ ان لوگوں کو خانہ کعبہ سے روک دیا جائے۔ اس کے بعد ایک شخص کفارقریش کے لشکر میں سے کھڑا ہوگیا جس
1۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ ، ذکرعمرۃ الحدیبیۃ ،ج۲،ص۸۸
Flag Counter