کی اس جرأت اور حرکت کو برداشت نہ کرسکے۔ عروہ بن مسعود جب ریش مبارک کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ تلوار کا قبضہ اس کے ہاتھ پر مار کر اس سے کہتے کہ ریش مبارک سے اپنا ہاتھ ہٹا لے۔ عروہ بن مسعود نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا کہ یہ کون آدمی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ہیں۔ تو عروہ بن مسعود نے ڈانٹ کر کہا کہ اے دغاباز!کیا میں تیری عہدشکنی کو سنبھالنے کی کوشش نہیں کررہا ہوں؟(حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند آدمیوں کو قتل کردیا تھا جس کا خون بہا عروہ بن مسعود نے اپنے پاس سے ادا کیا تھا یہ اسی طرف اشارہ تھا)(1)
اس کے بعد عروہ بن مسعود صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو دیکھنے لگا اور پوری لشکرگاہ کو دیکھ بھال کر وہاں سے روانہ ہوگیا۔ عروہ بن مسعود نے حدیبیہ کے میدان میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی حیرت انگیز اور تعجب خیز عقیدت و محبت کا جو منظر دیکھا تھا اس نے اس کے دل پر بڑا عجیب اثر ڈالا تھا۔ چنانچہ اس نے قریش کے لشکر میں پہنچ کر اپنا تاثر ان لفظوں میں بیان کیا۔
''اے میری قوم!خدا کی قسم!جب محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)اپنا کھنکھار تھوکتے ہیں تو وہ کسی نہ کسی صحابی کی ہتھیلی میں پڑتا ہے اور وہ فرط عقیدت سے اس کو اپنے چہرے اور اپنی کھال پر مل لیتا ہے۔ اور اگر وہ کسی بات کا ان لوگوں کو حکم دیتے ہیں تو سب کے سب اس کی تعمیل کے لئے جھپٹ پڑتے ہیں۔ اور وہ جب وضو کرتے ہیں تو ان کے اصحاب ان کے وضو کے دھوون کو اس طرح لوٹتے ہیں کہ گویا ان میں تلوار چل پڑے گی اور وہ جب کوئی گفتگو کرتے ہیں تو تمام اصحاب خاموش ہوجاتے ہیں۔ اور