Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
351 - 872
دو کہ میں ان سے مل کر معاملات طے کروں۔سب نے اجازت دے دی کہ بہت اچھا! آپ جایئے۔ عروہ بن مسعود وہاں سے چل کر حدیبیہ کے میدان میں پہنچا اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو مخاطب کرکے یہ کہا کہ بدیل بن ورقاء کی زبانی آپ کا پیغام ہمیں ملا۔ اے محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) مجھے آپ سے یہ کہنا ہے کہ اگر آپ نے لڑ کر قریش کو برباد کرکے دنیا سے نیست و نابود کردیا تو مجھے بتایئے کہ کیا آپ سے پہلے کبھی کسی عرب نے اپنی ہی قوم کو برباد کیا ہے؟ اور اگر لڑائی میں قریش کا پلہ بھاری پڑا تو آپ کے ساتھ جو یہ لشکر ہے میں ان میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ یہ سب آپ کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ عروہ بن مسعود کا یہ جملہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو صبر و ضبط کی تاب نہ رہی۔ انہوں نے تڑپ کر کہا کہ اے عروہ!چپ ہو ،جا! اپنی دیوی ''لات'' کی شرمگاہ چوس،کیا ہم بھلا اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔

عروہ بن مسعود نے تعجب سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ''یہ ابوبکر ہیں۔'' عروہ بن مسعود نے کہا کہ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اے ابوبکر!اگر تیرا ایک احسان مجھ پر نہ ہوتا جس کا بدلہ میں اب تک تجھ کو نہیں دے سکا ہوں تو میں تیری اس تلخ گفتگو کا جواب دیتا۔(1) عروہ بن مسعود اپنے کو سب سے بڑا آدمی سمجھتا تھا۔ اس لئے جب بھی وہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی بات کہتا تو ہاتھ بڑھا کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی ریش مبارک پکڑ لیتا تھا اور بار بار آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس داڑھی پر ہاتھ ڈالتا تھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ننگی تلوار لے کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے تھے۔ وہ عروہ بن مسعود
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب ششم ،ج۲،ص۲۰۴،۲۰۶ملخصاً
Flag Counter