Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
350 - 872
جنگ کے ارادہ سے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم جنگ چاہتے ہیں۔ ہم یہاں صرف عمرہ ادا کرنے کی غرض سے آئے ہیں۔ مسلسل لڑائیوں سے قریش کو بہت کافی جانی ومالی نقصان پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا ان کے حق میں بھی یہی بہتر ہے کہ وہ جنگ نہ کریں بلکہ مجھ سے ایک مدت معینہ تک کے لئے صلح کا معاہدہ کرلیں اور مجھ کو اہل عرب کے ہاتھ میں چھوڑ دیں۔ اگر قریش میری بات مان لیں تو بہتر ہوگااور اگر انہوں نے مجھ سے جنگ کی تو مجھے اس ذات کی قسم ہے جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کہ میں ان سے اس وقت تک لڑوں گا کہ میری گردن میرے بدن سے الگ ہوجائے۔

بدیل بن ورقاء آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ پیغام لے کر کفارقریش کے پاس گیا اور کہا کہ میں محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کا ایک پیغام لے کر آیا ہوں۔ اگر تم لوگوں کی مرضی ہوتو میں ان کا پیغام تم لوگوں کو سناؤں۔ کفارقریش کے شرارت پسند لونڈے جن کا جوش ان کے ہوش پر غالب تھا شورمچانے لگے کہ نہیں! ہرگزنہیں! ہمیں ان کا پیغام سننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن کفارقریش کے سنجیدہ اور سمجھدار لوگوں نے پیغام سنانے کی اجازت دے دی اور بدیل بن ورقاء نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی دعوت صلح کو ان لوگوں کے سامنے پیش کردیا۔ یہ سن کر قبیلہ قریش کا ایک بہت ہی معمر اور معزز سردار عروہ بن مسعود ثقفی کھڑا ہوگیا اور اس نے کہا کہ اے قریش!کیا میں تمہارا باپ نہیں؟ سب نے کہا کہ کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ کیا تم لوگ میرے بچے نہیں؟سب نے کہا کہ کیوں نہیں۔ پھر اس نے کہا کہ میرے بارے میں تم لوگوں کو کوئی بدگمانی تو نہیں؟ سب نے کہا کہ نہیں !ہرگز نہیں۔ اس کے بعد عروہ بن مسعود نے کہا کہ محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے بہت ہی سمجھداری اور بھلائی کی بات پیش کردی۔ لہٰذا تم لوگ مجھے اجازت