Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
349 - 872
اسی سورہ فتح میں دوسری جگہ ان بیعت کرنے والوں کی فضیلت اور ان کے اجروثواب کا قرآن مجید میں اس طرح خطبہ پڑھا کہ
لَقَدْ رَضِیَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیۡنَ اِذْ یُبَایِعُوۡنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ فَاَنۡزَلَ السَّکِیۡنَۃَ عَلَیۡہِمْ وَ اَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیۡبًا ﴿ۙ۱۸﴾ (1)
بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے جب وہ درخت کے نیچے تمہاری بیعت کرتے تھے تو اللہ نے جانا جوان کے دلوں میں ہے پھر ان پر اطمینان اتار دیا اور انہیں جلد آنے والی فتح کا انعام دیا۔

لیکن ''بیعۃ الرضوان'' ہوجانے کے بعد پتا چلا کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کی خبر غلط تھی۔ وہ باعزت طورپر مکہ میں زندہ و سلامت تھے اور پھر وہ بخیروعافیت حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر بھی ہوگئے۔(2)
صلح حدیبیہ کیونکر ہوئی
حدیبیہ میں سب سے پہلا شخص جو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا وہ بدیل بن ورقاء خزاعی تھا۔ ان کا قبیلہ اگرچہ ابھی تک مسلمان نہیں ہوا تھا مگر یہ لوگ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حلیف اور انتہائی مخلص و خیرخواہ تھے۔ بدیل بن ورقاء نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خبر دی کہ کفارقریش نے کثیرتعداد میں فوج جمع کرلی ہے اور فوج کے ساتھ راشن کے لئے دودھ والی اونٹنیاں بھی ہیں۔ یہ لوگ آپ سے جنگ کریں گے اور آپ کو خانہ کعبہ تک نہیں پہنچنے دیں گے۔

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم قریش کو میرا یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم
1۔۔۔۔۔۔پ۲۶،الفتح:۱۸

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب امر الحدیبیۃ، ج۳، ص۲۲۲۔۲۲۶
Flag Counter