Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
35 - 872
مقدمۃالکتاب
    سیرت نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کا موضوع اس قدر دل کش ، ایمان افروز اور روح پرور عنوان ہے کہ عاشقان رسول کیلئے اس چمنستان کی گل چینی ، ایمانی قلب وروح کے لئے فرح وسرورکی ایسی ''بہشت خلد''ہے کہ جنۃ الفردوس کی ہزاروں رعنائیاں اس کے ایک ایک پھول سے رنگ وبو کی بھیک مانگنے کو اپنے لئے سرمایۂ افتخار تصور کرتی ہیں ۔ اسی لیے ان حق پرست علماء ربانیین نے جن کے مقدس سینوں میں محبت رسول کے ہزاروں پھول کھلے ہوئے ہیں اس ایمانی عنوان اورنورانی موضوع پر اپنی زندگی کی آخری سانس تک قلم چلاتے چلاتے اپنی جانیں قربان کردیں۔چنانچہ آج ہرزبان میں سیرت نبویہ کی کتابوں کااتنا بڑا ذخیرہ ہمارے سامنے موجود ہے کہ دنیا میں کسی بڑے سے بڑے شہنشاہ کی سوانح حیات کے بارے میں اس کا لاکھواں بلکہ کروڑواں حصہ بھی عالم وجود میں نہ آسکا۔

    وہ عاشقان رسول جو سیرت نویسی کی بدولت آسمان عزت وعظمت میں ستاروں کی طرح چمکتے اورچمنستان شہرت میں پھولوں کی طرح مہکتے ہیں ان خوش نصیب عالموں کی فہرست اتنی طویل ہے کہ ان کا حصروشمار ہماری طاقت واقتدار سے باہر ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہاں ان چند مشہورعلماء سیرت کے مقدس ناموں کا ان کے سنہ وفات کے ساتھ ذکر کرتے ہیں جوبارگاہ الہٰی میں ذاکر رسول ہونے کی حیثیت سے اس قدر مقبول ہیں کہ اگر ایام قحط میں نماز استسقاء کے بعد ان بزرگوں کے ناموں کا وسیلہ پکڑ کر خداسے دعا مانگی جائے تو فوراً ہی باران رحمت کا نزول ہوجائے اوراگر
۱۔۔۔۔ پ ۲۸، الجمعۃ:۴
Flag Counter