Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
36 - 872
مجالس میں ان سعید روحوں کا تذکرہ چھیڑ دیا جائے تو رحمت کے فرشتے اپنے مقدس بازوؤں اورپروں کو پھیلا کر ان محفلوں کا شامیانہ بنادیں۔
چند مصنفین سیرت
    خلفاء راشدین بلکہ خلیفۂ عادل حضرت عمر بن عبدالعزیزاموی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورخلافت سے کچھ قبل تک چونکہ حدیثوں کا لکھنا ممنوع قرار دے دیا گیاتھا تاکہ قرآن وحدیث میں خلط ملط نہ ہونے پائے اس لئے سیرت نبویہ کے موضوع پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی کوئی تصنیف عالم وجود میں نہ آسکی مگر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب احادیث نبویہ کی کتابت کا عام طور پر چرچا ہوا تو دور تابعین میں ''محدثین ''کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مصنفین کابھی ایک طبقہ پیداہوگیا۔

    حضرات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سیرت نبویہ کے موضو ع پر کتابیں تو تصنیف نہ کرسکے مگر وہ اپنی یادداشت سے زبانی طور پر اپنی مجالس ، اپنی درسگاہوں، اپنے خطبات میں احادیث احکام کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مضامین بھی بیان کرتے رہتے تھے ۔ اسی لئے احادیث کی طرح مضامین سیرت کی روایتوں کا سرچشمہ بھی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم ہی کی مقدس شخصیتیں ہیں۔

    بہر حال دور تابعین سے گیارہویں صدی تک چند مقتدر محدثین ومصنفین سیرت کے اسمائے گرامی ملاحظہ فرمائيے ۔گیارہویں صدی کے بعد والے مصنفین کے ناموں کو ہم نے اس فہرست میں ا س لئے جگہ نہیں دی کہ یہ لوگ درحقیقت اگلے مصنفین ہی کے خوشہ چین وفیض یافتہ ہيں۔
Flag Counter