رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی مالداری اور اپنے قبیلہ والوں کی حمایت و پاسداری کی وجہ سے کفار قریش کی نگاہوں میں بہت زیادہ معزز تھے۔ اس لئے کفارقریش ان پر کوئی درازدستی نہیں کرسکے۔ بلکہ ان سے یہ کہا کہ ہم آپ کو اجازت دیتے ہیں کہ آپ کعبہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کرکے اپنا عمرہ ادا کرلیں مگر ہم محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو کبھی ہرگز ہرگز کعبہ کے قریب نہ آنے دیں گے۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار کردیا اور کہا کہ میں بغیر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ساتھ لئے کبھی ہرگز ہرگز اکیلے اپنا عمرہ نہیں ادا کرسکتا۔ اس پر بات بڑھ گئی اور کفار نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ میں روک لیا۔ مگر حدیبیہ کے میدان میں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ کفار قریش نے ان کو شہید کردیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خون کا بدلہ لینا فرض ہے۔ یہ فرماکر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ببول کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ تم سب لوگ میرے ہاتھ پر اس بات کی بیعت کرو کہ آخری دم تک تم لوگ میرے وفادار اور جاں نثارر ہوگے۔ تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے نہایت ہی ولولہ انگیز جوش و خروش کے ساتھ جاں نثاری کا عہد کرتے ہوئے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست حق پرست پر بیعت کرلی۔ یہی وہ بیعت ہے جس کا نام تاریخ اسلام میں ''بیعۃ الرضوان'' ہے۔ حضرت حق جل مجدہ نے اس بیعت اور اس درخت کا تذکرہ قرآن مجید کی سورهٔ فتح میں اس طرح فرمایا ہے کہ