Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
347 - 872
سے ہٹ کر سفر شروع کردیا اور عام راستہ سے کٹ کر آگے بڑھے اور مقام ''حدیبیہ'' میں پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ یہاں پانی کی بے حد کمی تھی۔ ایک ہی کنواں تھا۔ وہ چند گھنٹوں ہی میں خشک ہوگیا۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پیاس سے بے تاب ہونے لگے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک بڑے پیالہ میں اپنا دست مبارک ڈال دیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس انگلیوں سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا۔ پھر آپ صلی  اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے خشک کنویں میں اپنے وضو کا غسالہ اور اپنا ایک تیر ڈال دیا تو کنویں میں اس قدر پانی ابل پڑا کہ پورا لشکر اور تمام جانور اس کنویں سے کئی دنوں تک سیراب ہوتے رہے۔(1)

     (بخاری غزوۂ حدیبیہ ج ۲ ص ۵۹۸و بخاری ج۱ص۳۷۸ )
بیعۃ الرضوان
مقام حدیبیہ میں پہنچ کر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دیکھا کہ کفار قریش کا ایک عظیم لشکر جنگ کے لئے آمادہ ہے اور ادھر یہ حال ہے کہ سب لوگ احرام باندھے ہوئے ہیں اس حالت میں جوئیں بھی نہیں مار سکتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مناسب سمجھا کہ کفارمکہ سے مصالحت کی گفتگو کرنے کے لئے کسی کو مکہ بھیج دیا جائے۔ چنانچہ اس کام کے لئے آپ نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منتخب فرمایا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کردی کہ یارسول اللہ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کفارقریش میرے بہت ہی سخت دشمن ہیں اور مکہ میں میرے قبیلہ کا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو مجھ کو ان کافروں سے بچا سکے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مکہ بھیجا۔ انہوں نے مکہ پہنچ کر کفارقریش کو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے صلح کا پیغام پہنچایا۔ حضرت عثمان
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الحدیبیۃ،الحدیث:۴۱۵۰،۴۱۵۲، 

ج۳، ص۶۸،۶۹ملخصاً والکامل فی التاریخ ،ذکرعمرۃ الحدیبیۃ،ج۲،ص۸۶، ۸۷ملخصاً
Flag Counter