Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
344 - 872
یہودیوں کے بارے میں یہ فیصلہ فرمایا کہ

''لڑنے والی فوجوں کو قتل کر دیا جائے،عورتیں اور بچے قیدی بنا لئے جائیں اور یہودیوں کا مال و اسباب مال غنیمت بنا کر مجاہدوں میں تقسیم کر دیا جائے۔''

حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کی زبان سے یہ فیصلہ سن کر ارشاد فرمایا کہ یقینا بلا شبہ تم نے ان یہودیوں کے بارے میں وہی فیصلہ سنایا ہے جو اللہ کا فیصلہ ہے۔(1)(مسلم جلد۲ ص۹۵)

اس فیصلہ کے مطابق بنی قریظہ کی لڑاکا فوجیں قتل کی گئیں اور عورتوں بچوں کو قیدی بنا لیا گیا اور ان کے مال و سامان کو مجاہدین اسلام نے مال غنیمت بنا لیااور اس شریر و بدعہد قبیلہ کے شروفساد سے ہمیشہ کے لئے مسلمان پرامن و محفوظ ہو گئے۔

یہودیوں کا سردار حیی بن اخطب جب قتل کیلئے مقتل میں لایا گیا تو اس نے قتل ہونے سے پہلے یہ الفاظ کہے کہ

اے محمد!(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) خدا کی قسم! مجھے اس کا ذرا بھی افسوس نہیں ہے کہ میں نے کیوں تم سے عداوت کی لیکن حقیقت یہ ہے کہ جو خدا کو چھوڑ دیتا ہے،خدا بھی اس کو چھوڑ دیتا ہے،لوگو! خدا کے حکم کی تعمیل میں کوئی مضائقہ نہیں بنی قریظہ کا قتل ہونا یہ ایک حکم الٰہی تھا یہ (توراۃ) میں لکھا ہوا تھایہ ایک سزا تھی جوخدا نے بنی اسرائیل پر لکھی تھی۔(2)(سیرت ابن ہشام غزوۂ بنو قریظہ ج۳ ص۲۴۱)
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ الحلبیۃ، باب ذکر مغازیہ، غزوۃ بنی قریظۃ،ج۲،ص۴۴۲۔۴۴۸ ملتقطاً 

والکامل فی التاریخ، ذکرغزوۃ بنی قریظۃ ،ج۲،ص۷۵،۷۶

2۔۔۔۔۔۔الکامل فی التاریخ ،ذکرغزوۃ بنی قریظۃ ،ج۲،ص۷۶
Flag Counter