حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور کہا کہ یا رسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ نے ہتھیار اتار دیالیکن ہم فرشتوں کی جماعت نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارا ہے اﷲ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بنی قریظہ کی طرف چلیں کیونکہ ان لوگوں نے معاہدہ توڑ کر علانیہ جنگ خندق میں کفار کے ساتھ مل کر مدینہ پر حملہ کیا ہے۔(1)
(مسلم باب جواز قتال من نقض العہدج ۲ ص۹۵)
چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا کہ لوگ ابھی ہتھیار نہ اتاریں اور بنی قریظہ کی طرف روانہ ہو جائیں،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے خود بھی ہتھیار زیب تن فرمایا،اپنے گھوڑے پر جس کا نام ''لحیف'' تھاسوار ہو کر لشکر کے ساتھ چل پڑے اور بنی قریظہ کے ایک کنویں کے پاس پہنچ کر نزول فرمایا۔(2)(زرقانی ج۲ ص۱۲۸)
بنی قریظہ بھی جنگ کے لئے بالکل تیار تھے چنانچہ جب حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ان کے قلعوں کے پاس پہنچے تو ان ظالم اور عہد شکن یہودیوں نے حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو(معاذ اﷲ) گالیاں دیں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کے قلعوں کا محاصرہ فرما لیااور تقریباً ایک مہینہ تک یہ محاصرہ جاری رہایہودیوں نے تنگ آکر یہ درخواست پیش کی کہ ''حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہمارے بارے میں جو فیصلہ کر دیں وہ ہمیں منظور ہے۔''
حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق میں ایک تیر کھا کر شدید طور پر زخمی تھے مگر اسی حالت میں وہ ایک گدھے پر سوار ہو کر بنی قریظہ گئے اور انہوں نے