آپ کی شہادت کا واقعہ یہ ہے کہ آپ ایک چھوٹی سی زرہ پہنے ہوئے جوش میں بھرے ہوئے نیزہ لے کر لڑنے کے لئے جا رہے تھے کہ ابن العرقہ نامی کافر نے ایسا نشانہ باندھ کر تیر مارا کہ جس سے آپ کی ایک رگ جس کا نام اکحل ہے وہ کٹ گئی جنگ ختم ہونے کے بعد ان کے لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں ایک خیمہ گاڑااور ان کا علاج کرنا شروع کیا۔ خود اپنے دست مبارک سے ان کے زخم کو دو مرتبہ داغا،اسی حالت میں آپ ایک مرتبہ بنی قریظہ تشریف لے گئے اور وہاں یہودیوں کے بارے میں اپنا وہ فیصلہ سنایا جس کا ذکر ''غزوہ قریظہ'' کے عنوان کے تحت آئے گااس کے بعد وہ اپنے خیمہ میں واپس تشریف لائے اور اب ان کا زخم بھرنے لگ گیا تھا لیکن انہوں نے شوق شہادت میں خداوند تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ
یااﷲ!عزوجل تو جانتا ہے کہ کسی قوم سے جنگ کرنے کی مجھے اتنی زیادہ تمنا نہیں ہے جتنی کفار قریش سے لڑنے کی تمنا ہے جنہوں نے تیرے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور ان کو ان کے وطن سے نکالا،اے اﷲ!عزوجل میرا تویہی خیال ہے کہ اب تو نے ہمارے اور کفار قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے لیکن اگر ابھی کفار قریش سے کوئی جنگ باقی رہ گئی ہوجب تومجھے تو زندہ رکھ تا کہ میں تیری راہ میں ان کافروں سے جہاد کروں اور اگر اب ان لوگوں سے کوئی جنگ باقی نہ رہ گئی ہو تو میرے اس زخم کو تو پھاڑ دے اور اسی زخم میں تو مجھے موت عطا فرما دے۔
آپ کی یہ دعا ختم ہوتے ہی بالکل اچانک آپ کا زخم پھٹ گیااور خون بہ کر مسجد نبوی کے اندر بنی غفار کے خیمہ میں پہنچ گیاان لوگوں نے چونک کر کہا کہ اے خیمہ والو! یہ کیسا خون ہے جو تمہارے خیمہ سے بہ کر ہماری طرف آ رہا ہے؟ جب لوگوں نے