| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
دیکھا تو حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زخم سے خون بہ رہا تھااسی زخم میں ان کی وفات ہو گئی۔(1)(بخاری ج۲ ص۵۹۱ باب مرجع النبی من الاحزاب)
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موت سے عرش الٰہی ہل گیا اور ان کے جنازہ میں ستر ہزار ملائکہ حاضر ہوئے اور جب ان کی قبر کھودی گئی تو اس میں مشک کی خوشبو آنے لگی۔ (2)(زرقانی ج۲ ص۱۴۳)
عین وفات کے وقت حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے سرہانے تشریف فرما تھے،انہوں نے آنکھ کھول کر آخری بار جمال نبوت کا نظارہ کیا اور کہا کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللہِ۔پھر بہ آواز بلند یہ کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ کے رسول ہیں اور آپ نے تبلیغ رسالت کا حق ادا کر دیا۔(3)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۱۸۱)حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی بہادری
جنگ خندق میں ایک ایسا موقع بھی آیا کہ جب یہودیوں نے یہ دیکھا کہ ساری مسلمان فوج خندق کی طرف مصروفِ جنگ ہے تو جس قلعہ میں مسلمانوں کی عورتیں اور بچے پناہ گزین تھے یہودیوں نے اچانک اس پر حملہ کر دیااور ایک یہودی دروازہ تک پہنچ گیا،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس کو دیکھ لیا اور حضرت حسان بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ تم اس یہودی کو قتل کر
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب مرجع النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم من الاحزاب...الخ، الحدیث:۴۱۲۲،ج۳،ص۵۶ومدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم،ج۲،ص۱۷۱،۱۷۲ملخصاً 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ بنی قریظۃ،ج۳،ص۹۲،۱۰۰ملتقطاً 3۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۸۱