| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے موقع پر جب کہ کفار مدینہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے اور کسی کے لئے شہر سے باہر نکلنا دشوار تھاتین مرتبہ ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو قوم کفار کی خبر لائے؟ تینوں مرتبہ حضرت زبیر بن العوام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزند ہیں یہ کہا کہ ''میں یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)خبر لاؤں گا۔'' حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس جان نثاری سے خوش ہو کر تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
لِکُلِّ نَبِیٍّ حَوَارِیٌّ وَّاِنَّ حَوَارِیَّ الزُّبَیْرُ (بخاری ج۲ ص۵۹۰)
ہرنبی کے لئے حواری(مددگارخاص)ہوتے ہیں اور میرا ''حواری'' زبیر ہے۔ اسی طرح حضرت زبیررضی اﷲ تعالیٰ عنہ کوبارگاہ رسالت سے ''حواری'' کا خطاب ملاجو کسی دوسرے صحابی کو نہیں ملا۔(1)
حضرت سعد بن معاذرضی اللہ تعالیٰ عنہ شہید
اس جنگ میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت ہی کم ہوایعنی کل چھ مسلمان شہادت سے سرفرازہوئے مگر انصار کا سب سے بڑا بازو ٹوٹ گیایعنی حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار اعظم تھے،اس جنگ میں ایک تیر سے زخمی ہو گئے اور پھر شفا یاب نہ ہو سکے۔(2)
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق،الحدیث:۴۱۱۳،ج۳،ص۵۴ 2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ الخندق...الخ وباب غزوۃ بنی قریظۃ، ج۳،ص۴۳،۸۹ ملتقطاً وملخصاً