Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
337 - 872
اس گھمسان کی لڑائی میں حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی نماز عصر قضا ہو گئی۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جنگ خندق کے دن سورج غروب ہونے کے بعد کفار کو برا بھلا کہتے ہوئے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں نماز عصر نہیں پڑھ سکا ۔تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے بھی ابھی تک نماز عصر نہیں پڑھی ہے پھر آپ نے وادی بطحان میں سورج غروب ہو جانے کے بعد نماز عصر قضا پڑھی پھر اس کے بعد نماز مغرب ادا فرمائی۔ اور کفار کے حق میں یہ دعا مانگی کہ
مَلَاَ اللہُ عَلَیْہِمْ بُیُوْتَھُمْ وَقُبُوْرَھُمْ نَارًا کَمَا شَغَلُوْنَا عَنِ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی حَتّٰی غَابَتِ الشَّمْسُ (1)(بخاری ج2ص۵۹۰)
    اﷲ ان مشرکوں کے گھروں اور ان کی قبروں کو آگ سے بھر دے ان لوگوں نے ہم کو نماز وسطیٰ سے روک دیایہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔

جنگ خندق کے دن حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی فرمائی کہ :
اَللّٰھُمَّ مُنْزِلَ الْکِتَابِ سَرِیْعَ الْحِسَابِ اھْزِمِ الْاَحْزَابَ اَللّٰھُمَّ اھْزِمْھُمْ وَزَلْزِلْھُمْ(2)(بخاری ج۲ ص۵۹۰)
اے اﷲ!عزوجل اے کتاب نازل فرمانے والے!جلدحساب لینے والے!تو ان کفار کے لشکروں کو شکست دے دے،اے اﷲ!عزوجل ان کو شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ دے۔
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق،الحدیث:۴۱۱۱،۴۱۱۲، 

ج۳، ص۵۴

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق،الحدیث:۴۱۱۵،ج۳،ص۵۵
Flag Counter