Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
336 - 872
ہو کر فرار ہو گئے کفار کے باقی شہسوار بھی جو خندق کو پار کرکے آ گئے تھے وہ سب بھی بھاگ کھڑے ہوئے اور ابو جہل کا بیٹا عکرمہ تو اس قدر بدحواس ہو گیا کہ اپنا نیزہ پھینک کر بھاگا اور خندق کے پار جا کر اس کو قرار آیا۔(1)(زرقانی جلد ۲ )

بعض مؤرخین کا قول ہے کہ نوفل کو حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے قتل کیااور بعض نے یہ کہا کہ نوفل حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی غرض سے اپنے گھوڑے کو کودا کر خندق کو پار کرنا چاہتا تھا کہ خود ہی خندق میں گر پڑااور اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ مر گیابہر حال کفار مکہ نے دس ہزار درہم میں اس کی لاش کو لینا چاہاتاکہ وہ اس کو اعزاز کے ساتھ دفن کریں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے رقم لینے سے انکار فرما دیا اور ارشاد فرمایا کہ ہم کو اس لاش سے کوئی غرض نہیں مشرکین اس کو لے جائیں اور دفن کریں ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔(2)(زرقانی جلد۲ ص۱۱۴)

اس دن کاحملہ بہت ہی سخت تھادن بھرلڑائی جاری رہی اوردونوں طرف سے تیراندازی اورپتھربازی کاسلسلہ برابرجاری رہااورکسی مجاہدکااپنی جگہ سے ہٹنانا ممکن تھا، خالد بن ولید نے اپنی فوج کے ساتھ ایک جگہ سے خندق کو پار کر لیا اور بالکل ہی ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خیمہ اقدس پر حملہ آور ہو گیامگر حضرت اسید بن حضیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس کو دیکھ لیا اور دو سو مجاہدین کو ساتھ لے کر دوڑ پڑے اور خالد بن الولید کے دستہ کے ساتھ دست بدست کی لڑائی میں ٹکرا گئے اور خوب جم کر لڑے اس لئے کفار خیمہ اطہر تک نہ پہنچ سکے ۔ (3)(زرقانی جلد۲ ص۱۱۷)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق...الخ، ج۳،ص۴۳ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب غزوۃ الخندق...الخ،ج۳،ص۴۱،۴۳ملتقطاً

3۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،باب غزوۃ الخندق...الخ،ج۳،ص۴۷ملخصاً
Flag Counter