لاتا ہوں،چلتے وقت بیوی نے کہا کہ دیکھنا صرف حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور چند ہی اصحاب کو ساتھ میں لاناکھانا کم ہی ہے کہیں مجھے رسوا مت کر دینا۔ حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خندق پر آ کر چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک صاع آٹے کی روٹیاں اور ایک بکری کے بچے کا گوشت میں نے گھر میں تیار کرایا ہے لہٰذا آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمصرف چند اشخاص کے ساتھ چل کر تناول فرما لیں،یہ سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے خندق والو!جابر نے دعوت طعام دی ہے لہٰذا سب لوگ ان کے گھر پر چل کر کھانا کھا لیں پھر مجھ سے فرمایا کہ جب تک میں نہ آجاؤں روٹی مت پکوانا،چنانچہ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے تو گوندھے ہوئے آٹے میں اپنا لعاب دہن ڈال کر برکت کی دعا فرمائی اور گوشت کی ہانڈی میں بھی اپنا لعاب دہن ڈال دیا۔ پھر روٹی پکانے کا حکم دیااور یہ فرمایا کہ ہانڈی چولھے سے نہ اتاری جائے پھر روٹی پکنی شروع ہوئی اور ہانڈی میں سے حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی بیوی نے گوشت نکال نکال کر دینا شروع کیاایک ہزار آدمیوں نے آسودہ ہو کر کھانا کھا لیامگر گوندھا ہوا آٹا جتنا پہلے تھا اتنا ہی رہ گیا اور ہانڈی چولھے پر بدستور جوش مارتی رہی۔(1) (بخاری ج۲ ص۵۸۹ غزوہ خندق)