Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
325 - 872
بھی خندق کھودتے اور مٹی اُٹھا اُٹھا کر پھینکتے تھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے شکم مبارک پر غبار کی تہ جم گئی تھی اور مٹی اٹھاتے ہوئے صحابہ کو جوش دلانے کے لئے رجز کے یہ اشعار پڑھتے تھے کہ       ؎
وَاللہِ لَوْلَا اللہُ مَا اھْتَدَیْنَا		وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّیْنَا
خدا کی قسم! اگر اﷲ کا فضل نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے۔
فَاَنْزِلَنْ سَکِیْنَۃً عَلَیْنَا		وَثَبِّتِ الْاَقْدَامَ اِنْ لَاقَیْنَا
لہٰذا اے اﷲ!عزوجل تو ہم پر قلبی اطمینان اتار دے اور جنگ کے وقت ہم کو ثابت قدم رکھ۔
اِنَّ الْاُلٰی قَدْ بَغَوْا عَلَیْنَا		اِذَا اَرَادُوْا فِتْنَۃً اَبَیْنَا
یقینا ان (کافروں) نے ہم پر ظلم کیا ہے اور جب بھی ان لوگوں نے فتنہ کا ارادہ کیاتو ہم لوگوں نے انکار کر دیا۔لفظ ''اَبَیْنَا'' حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بار بار بہ تکرار بلند آواز سے دہراتے تھے۔(1)
ایک عجیب چٹان
حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بیان فرمایا کہ خندق کھودتے وقت ناگہاں ایک ایسی چٹان نمودار ہو گئی جو کسی سے بھی نہیں ٹوٹی جب ہم نے بارگاہ رسالت میں یہ ماجرا عرض کیا تو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اٹھے تین دن کا فاقہ تھا اور شکم مبارک پر پتھر بندھا
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃالخندق...الخ،الحدیث۴۱۰۶،ج۳،ص۵۳

والمواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی،باب غزوۃالخندق...الخ،ج۳،ص۲۷،۲۸
Flag Counter