Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
324 - 872
نے خود اپنے دست مبارک سے خندق کی حد بندی فرمائی اور دس دس آدمیوں پر دس دس گز زمین تقسیم فرما دی اور تقریباً بیس دن میں یہ خندق تیار ہوگئی۔(1)(مدارج النبوۃ ج۲ ص۱۶۸ تا ۱۷۰)

حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خندق کے پاس تشریف لائے اور جب یہ دیکھا کہ انصار ومہاجرین کڑکڑاتے ہوئے جاڑے کے موسم میں صبح کے وقت کئی کئی فاقوں کے باوجود جوش و خروش کے ساتھ خندق کھودنے میں مشغول ہیں تو انتہائی متأثرہو کر آپ نے یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا کہ ؎
اَللّٰھُمَّ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃ 		فَاغْفِرِ الْاَنْصَارَ وَالْمُھَاجِرَۃ
اے اﷲ!عزوجل بلا شبہ زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے لہٰذا تو انصار و مہاجرین کو بخش دے۔

    اس کے جواب میں انصار و مہاجرین نے آواز ملا کر یہ پڑھنا شروع کر دیا کہ ؎
نَحْنُ الَّذِیْنَ بَایَعُوْا مُحَمَّدًا		عَلَی الْجِھَادِ مَا بَقِیْنَا اَبَدًا
ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے جہاد پر حضرت محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ہے جب تک ہم زندہ رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔ (2) (بخاری غزوۂ خندق ج۲ ص۵۸۸)

حضرت براء بن عازب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود
1۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب،باب غزوۃ الخندق...الخ، ج۳،ص۱۹،۳۳

ومدارج النبوت ، قسم اول ، باب پنجم،ذکر فضائل...الخ،ج۲،ص۱۶۸ملخصاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب غزوۃ الخندق...الخ،الحدیث۴۰۹۹،ج۳،ص۵۰
Flag Counter