Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
32 - 872
دورہ پڑا کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگا اورٹانڈہ سے مکان جاکر مسلسل ایک ماہ تک صاحب فراش رہا ۔پھرر مضان 1395؁ھ میں مرض سے افاقہ ہوا تو نقاہت ہی کے عالم میں بحالت روزہ اس کام کو شروع کیا اورالحمدللہ عزوجل !کہ اس کی برکت سے روز بروز صحت وطاقت میں اضافہ ہوتاگیااورکام آگے بڑھتا رہا۔ مگرپھر 3شوال 1395؁ھ کو اچانک آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوگیااورپھر کام بند ہوگیا۔ ایک ماہ کے بعد لکھنے پڑھنے کے قابل ہوا تو جاڑوں کا چھوٹا دن ، دونوں وقت کا مدرسہ ، خطوط کے جوابات ، احباب سے ملاقاتیں ، ان مشاغل کی وجہ سے تصنیف وتالیف کیلئے دن بھر قلم پکڑنے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی، مجبوراً سردیوں کی راتوں میں لحاف اوڑھ کر لکھنا پڑا۔ پھر بڑی مشکل یہ درپیش تھی کی ٹانڈہ میں ضروری کتابوں کا ملنا دشوار تھا اورمدرسہ کی مصروفیات کے باعث ملک کی کسی لائبریری میں نہیں جاسکتا تھا۔ مجبوراً انہی چند کتابوں کی مدد سے جو اپنے پاس تھیں کام چلاناپڑا، جن کے حوالے جابجا اس کتاب میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔

    پھر اواخر صفر 1396؁ھ میں ناگہانی طور پر یہ حادثہ گزرا کی میری پیاری جوان بیٹی عارفہ خاتون مرحومہ مرض سرسام میں مبتلا ہوگئی اور27صفر 1396؁ھ کو وفات پاگئی۔ اس صدمہ جانکاہ نے میرے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پھرر بیع الاول 1396؁ھ میں جلسوں کا ایسا تانتابندھا کہ ایک ماہ میں تقریبا بارہ جلسوں میں تقریریں کرنا پڑیں اوربحالت سفر اس کا موقع ہی نہیں تھا کہ کچھ لکھ سکتا۔ غرض روز بروز نامساعد حالا ت نے قدم قدم پر مجھے قلم اٹھانے سے روکا مگر بحمدہٖ تعالیٰ ان طوفانوں کے تلاطم میں بھی میرے عزم واستقامت کی کشتی نہیں ڈگمگائی اورمیں فرصت کے اوقات میں چلتے پھرتے چند سطریں لکھتا ہی رہا۔ خداوند قدوس علیم وخبیر ہے کہ ان ہوش ربا حالات میں