دورہ پڑا کہ میں اپنی زندگی سے مایوس ہونے لگا اورٹانڈہ سے مکان جاکر مسلسل ایک ماہ تک صاحب فراش رہا ۔پھرر مضان 1395ھ میں مرض سے افاقہ ہوا تو نقاہت ہی کے عالم میں بحالت روزہ اس کام کو شروع کیا اورالحمدللہ عزوجل !کہ اس کی برکت سے روز بروز صحت وطاقت میں اضافہ ہوتاگیااورکام آگے بڑھتا رہا۔ مگرپھر 3شوال 1395ھ کو اچانک آشوب چشم کا عارضہ لاحق ہوگیااورپھر کام بند ہوگیا۔ ایک ماہ کے بعد لکھنے پڑھنے کے قابل ہوا تو جاڑوں کا چھوٹا دن ، دونوں وقت کا مدرسہ ، خطوط کے جوابات ، احباب سے ملاقاتیں ، ان مشاغل کی وجہ سے تصنیف وتالیف کیلئے دن بھر قلم پکڑنے کی فرصت ہی نہیں ملتی تھی، مجبوراً سردیوں کی راتوں میں لحاف اوڑھ کر لکھنا پڑا۔ پھر بڑی مشکل یہ درپیش تھی کی ٹانڈہ میں ضروری کتابوں کا ملنا دشوار تھا اورمدرسہ کی مصروفیات کے باعث ملک کی کسی لائبریری میں نہیں جاسکتا تھا۔ مجبوراً انہی چند کتابوں کی مدد سے جو اپنے پاس تھیں کام چلاناپڑا، جن کے حوالے جابجا اس کتاب میں آپ ملاحظہ فرمائیں گے ۔
پھر اواخر صفر 1396ھ میں ناگہانی طور پر یہ حادثہ گزرا کی میری پیاری جوان بیٹی عارفہ خاتون مرحومہ مرض سرسام میں مبتلا ہوگئی اور27صفر 1396ھ کو وفات پاگئی۔ اس صدمہ جانکاہ نے میرے دل ودماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ پھرر بیع الاول 1396ھ میں جلسوں کا ایسا تانتابندھا کہ ایک ماہ میں تقریبا بارہ جلسوں میں تقریریں کرنا پڑیں اوربحالت سفر اس کا موقع ہی نہیں تھا کہ کچھ لکھ سکتا۔ غرض روز بروز نامساعد حالا ت نے قدم قدم پر مجھے قلم اٹھانے سے روکا مگر بحمدہٖ تعالیٰ ان طوفانوں کے تلاطم میں بھی میرے عزم واستقامت کی کشتی نہیں ڈگمگائی اورمیں فرصت کے اوقات میں چلتے پھرتے چند سطریں لکھتا ہی رہا۔ خداوند قدوس علیم وخبیر ہے کہ ان ہوش ربا حالات میں