Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
31 - 872
دارین کا خزانہ مل گیا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ہوگئے ۔)

پھر مزید برآں میری تصنیفات کے قدردانوں نے بھی باربار تقاضا کیا کہ سیرت مبارکہ کے مقدس موضوع پر بھی کچھ نہ کچھ آپ ضرور لکھ دیں اوران کرم فرماؤں کا یہ مخلصانہ اصرار اس حد تک میرے سر پر سوارہوگیا کہ میں اس سے انکارو فرار کی تاب نہ لاسکا۔

    پھر ''سمندنازپہ اک اورتازیانہ ہوا''کہ اغیار نے بار بار یہ طعنہ مارا کہ علمائے اہل سنت محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اردوزبان میں سیرت نبویہ کے موضوع پر ان لوگوں نے بہت ہی کم لکھا ،برخلاف اس کے ملک کی دوسری جماعتوں کے قلمکاروں نے اس موضوع پر اس قدر زیادہ لکھا کہ اردو کتابوں کی مارکیٹ میں سیرت کی بہت کتابیں مل رہی ہیں جو سب انہی لوگوں کے زور قلم کی رہین منت ہيں۔

    یہ ہیں وہ اسباب ومحرکات جن سے متاثر ہوکر اپنی نااہلی اورعلمی سرمایہ سے افلاس کے باوجود مجھے قلم اٹھانا پڑااور کثرت کاروہجوم افکار کے محشر ستاں میں اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود چند اوراق کا یہ مجموعہ پیش کرنا پڑا۔

    اس کتاب کو میں نے حتی الامکان اپنی طاقت بھر جاذب قلب ونظر اورجامع ہونے کے ساتھ مختصر بنانے کی کوشش کی ہے اب یہ فیصلہ ناظرین کرام کی نگاہ نقدونظر کا دست نگر ہے کہ میں اپنی کوششوں میں کسی حد تک کامیاب ہوا یا نہیں ؟
ہجومِ موانع
    یکم جمادی الاخری 1395؁ھ کا دن میری تاریخ زندگی میں یادگار رہے گا کیونکہ استخارہ کے بعد اسی تاریخ کو میں نے اس کتاب کی ''بسم اللہ ''تحریر کی مگر خدا عزوجل کی شان کہ ابھی چند ہی صفحات لکھنے پایاتھا کہ بالکل ہی ناگہاں ریاحی دردِ گردہ کا اتنا شدید
Flag Counter